جو جیکسن اور بھتہ

بی بی سی والے بھی کبھی کبھی کبھار صحیح لطیفے لگاتے ہیں۔ پچھلے دنوں یہ خبر کئی دنوں تک فن و فنکار صفحے کی زینت بنی رہی۔
BBC

عیدمبارک

میرے بلاگ کے تمام بھولے بسرے قارئین کو دلی عید مبارک۔

بچپن نامہ: ایک واقعہ

بچپن کی یادیں ہندی فلموں سے زیادہ منٹو کے افسانے ہوتے ہیں۔۔۔چھوٹی چھوٹی۔۔۔سو کوئی طویل واقعہ تو لکھنا مشکل ہے لیکن چھوٹے چھوٹے کئی واقعات ایسے ہیں جو 'یادگار'(کم ازکم میرے لئے) کہے جاسکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ جو مجھے کبھی نہیں بھولتا:
ہمارے گاؤں سے تھوڑے دور، پنڈی جانے والے سڑک کے کنارے ہمارے کھیت (اب منی فارم)ہیں۔ 12/13 سال پہلے کی بات ہے۔ جب گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں ہمارا پسندیدہ مشغلہ آوارہ گردی تھا۔ گھر میں ادھر بڑے سوتے تھے اور ادھر ہم پچھلے دروازے سے فرار۔ کبھی ہمارے دل کو برساتی نالے ميں نہا کر چین آتا اور کبھی فاختاؤں کے بچے چرا کر سکون۔ اسکے علاوہ بھی کئی شوق تھے جو فی سیزن بدلتے رہتے تھے۔ ان معرکوں میں ہمارے(میں اور کچھ محلے کے لڑکوں) کے سردار میرے مرحوم بھائی(حکمت اقبال) ہوتے تھے۔ گو وہ عمر میں مجھ سے سال ہی بڑے تھے لیکن گھر سے باہر انکا تجربہ کافی وسیع تھا۔اوائل عمری میں کافی ساری چیزوں کے بارے میں مجھے انہی کے توسط سے معلوم ہوا۔ جاری رکھيے »

او عذرا جاناں: ایک خوبصورت افغان لوک گیت

عرصہ ہوا پاکستان کے پشتو گلوکار تخلیقی جمود کا شکار ہیں۔ اکثر گلوکار ایک ہی طرز کے اور دوسروں کی موسیقی چھاپہ مار کے گاتے ہیں۔ افغان ہمیشہ سے اس معاملے میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ایک خوبصورت افغانی لوک گیت پیش خدمت ہے:

آخری سچائی

واپسی

ایک دفعہ پھر سے میرے بلاگ پر خوش آمدید!
بلاگنگ میں چلنا، رکنا (start, pause) تو لگا ہی رہتا ہے، لیکن جس تواتر سے اس عادتِ بد پر میں کاربند ہوں شاید ہی کوئی اور ہو۔ لیکن اس دفعہ "ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا" کے مصداق ہمارے پاس بھی 'ودھیا' بہانہ ہے۔ جی ہاں آپ میں سے کئی احباب جانتے ہی ہونگے کہ پچھلے ماہ ہماری زندگی میں شادی نامی خوشگوار واقعہ(یا حادثہ) رونما ہوا۔ جاننے والوں، دوستوں اور دوسرے احباب کے ڈراوے "کچھ نہ دوا نے کام کیا" ہو گئے اور ہم مورخہ 12 اپریل 2009ء کو اس دریا میں کود ہی گئے۔ تادمِ تحریر شادی ایک خوشگوار تجربہ ہے اور رب کریم سے دعا ہے کہ 'خوشگوار' ہی رہے۔ اٰمین

بیگم

بیگم کا کچھ تعارف کراتا چلوں۔ میری بیگم کا تعلق ہمارے گاؤں کے قریب ایک دوسرے گاؤں "گنڈیالی" سے ہے۔ تعلیم ان کی بی-اے تک ہے اور وہ اپنی گاؤں کی واحد بی-اے کرنے والی خاتون ہیں۔ عمر تقریباً میرے برابر ہی ہے، وگرنہ گاؤں میں اکثر 4 تا 5 سال کا فرق میاں بیوی کی عمر میں عام ہے۔

واپسی کے بعد

گو کام پر میری واپسی شادی کے ایک ہفتہ بعد ہی ہو گئی تھی لیکن اسکے بعد تک کے عرصے(اور شادی سے پہلے بھی) میں دفتری کاموں میں پھنسے رہنے کی بناء پر اپنے بلاگوں پر کچھ نہیں لکھ سکا۔ دفتری مصروفیات ابھی بھی وہی کی وہیں ہیں تاہم امید ہے کہ تھوڑے بہت فارغ اوقات میں اپنے بلاگوں پر کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں گا۔ ان شاء اللہ