عرصہ ہوا پاکستان کے پشتو گلوکار تخلیقی جمود کا شکار ہیں۔ اکثر گلوکار ایک ہی طرز کے اور دوسروں کی موسیقی چھاپہ مار کے گاتے ہیں۔ افغان ہمیشہ سے اس معاملے میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ایک خوبصورت افغانی لوک گیت پیش خدمت ہے:
او عذرا جاناں: ایک خوبصورت افغان لوک گیت
بدھ، 10 جون 2009 — جہانِفن
آخری سچائی
پیر، 18 مئی 2009 — مزاح
واپسی
اتوار، 17 مئی 2009 — احوال ، اعلانات ، اپنا دکھڑا
ایک دفعہ پھر سے میرے بلاگ پر خوش آمدید!
بلاگنگ میں چلنا، رکنا (start, pause) تو لگا ہی رہتا ہے، لیکن جس تواتر سے اس عادتِ بد پر میں کاربند ہوں شاید ہی کوئی اور ہو۔ لیکن اس دفعہ "ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا" کے مصداق ہمارے پاس بھی 'ودھیا' بہانہ ہے۔ جی ہاں آپ میں سے کئی احباب جانتے ہی ہونگے کہ پچھلے ماہ ہماری زندگی میں شادی نامی خوشگوار واقعہ(یا حادثہ) رونما ہوا۔ جاننے والوں، دوستوں اور دوسرے احباب کے ڈراوے "کچھ نہ دوا نے کام کیا" ہو گئے اور ہم مورخہ 12 اپریل 2009ء کو اس دریا میں کود ہی گئے۔ تادمِ تحریر شادی ایک خوشگوار تجربہ ہے اور رب کریم سے دعا ہے کہ 'خوشگوار' ہی رہے۔ اٰمین
بیگم
بیگم کا کچھ تعارف کراتا چلوں۔ میری بیگم کا تعلق ہمارے گاؤں کے قریب ایک دوسرے گاؤں "گنڈیالی" سے ہے۔ تعلیم ان کی بی-اے تک ہے اور وہ اپنی گاؤں کی واحد بی-اے کرنے والی خاتون ہیں۔ عمر تقریباً میرے برابر ہی ہے، وگرنہ گاؤں میں اکثر 4 تا 5 سال کا فرق میاں بیوی کی عمر میں عام ہے۔
واپسی کے بعد
گو کام پر میری واپسی شادی کے ایک ہفتہ بعد ہی ہو گئی تھی لیکن اسکے بعد تک کے عرصے(اور شادی سے پہلے بھی) میں دفتری کاموں میں پھنسے رہنے کی بناء پر اپنے بلاگوں پر کچھ نہیں لکھ سکا۔ دفتری مصروفیات ابھی بھی وہی کی وہیں ہیں تاہم امید ہے کہ تھوڑے بہت فارغ اوقات میں اپنے بلاگوں پر کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں گا۔ ان شاء اللہ
رقابت
پیر، 23 فروری 2009 — مزاح
آج آفس آتے ہوئے ایف ایٹ موڑ پر ایک ہائی ایس پر نظر پڑی۔ ویسے تو گاڑیوں پر لکھے گئے سب اشعار دلچسپ ہوتےہ یں لیکن یہ شعر پڑھ کر میری ہنسی نکل گئی۔ ملاحظہ کیجیے:
نہ آنا میری میت پر ہمراہِ رقیباں
مسلمان میت کو جلایا نہیں کرتے
معذرت کہ گاڑی کی تیز رفتاری کیوجہ سے تصویر نہ لے سکا۔
میں ہی کیوں؟
ہفتہ، 21 فروری 2009 — اقتباسات
ٹینس کے مشہور امریکی سیاہ فام کھلاڑی آرتھر رابرٹ ایش(1943 تا 1993)) جب دل کی سرجری کے دوران متاثرہ خون کی منتقلی سے لاحق ہونے والی ایڈز کی بیماری سے نبرد آزما تھے تو ان کے کسی مداح نے پوچھا کہ "آخر خدا نے آپ ہی کو اتنی مہلک بیماری کا شکار ہونے کیلیے کیوں چنا؟"
ایش نے جواب دیا، "دنیا میں پانچ کروڑ بچے ٹینس کھیلنا شروع کرتے ہیں، پچاس لاکھ ٹینس سیکھتے ہیں، پانچ لاکھ پیشہ ورانہ ٹینس سیکھتے ہیں، پچاس ہزار ٹینس سرکٹ میں آتے ہیں، پانچ ہزار کسی بڑے ٹورنامنٹ(Grand Slam) میں پہنچتے ہیں، پچاس ومبلڈن میں پہنچتے ہیں، چار سیمی فائنل میں پہنچتے ہیں اور دو فائنل میں۔۔۔۔جب میں ومبلڈن کپ تھامے کھڑا تھا میں نے خدا سے نہیں پوچھا تھا کہ "میں ہی کیوں؟" سو آج مجھے اس درد میں بھی نہیں پوچھنا چاہیے کہ "میں ہی کیوں؟"
آئی فون طالبان میں بھی مقبول
جمعرات، 19 فروری 2009 — بلاعنوان

ہم جانتے ہیں کہ ایک دنیا ایپل کے آئی فون کی دیوانی ہے لیکن آپکو یہ سنکر حیرانگی ہو گی کہ پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر ملاعبدالسلام ضعیف بھی آئی فون کے دیوانوں میں شامل ہیں۔ کچھ ایسی ہی حیرت الجزیرہ کے نمائندے ہمیش میکڈونلڈ کو بھی ہوئی۔
"مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ جب ہم گھر میں مقید طالبان کے پاکستان میں سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا انٹرویو کرنے آئے، وہ کمرے میں داخل ہوئے اور صوفہ پر بیٹھتے ہی اپنا آئی فون کھینچ نکالا".
یہ مزے کی روداد آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں(نیچے آخری خبر تک سکرول کیجیے) اور اس خبر کے متعلق مزے مزے کے تبصرے یہاں ملاحظہ کریں۔





