لیٹ جشن آزادی۔ ہم بولیں محبت کی زباں

موبی لنک جشن آزادی پر کسی لیجنڈری سنگر کو لیکرملی نغمہ پیش کرتا ہے۔ اس دفعہ امانت علی خان کی “اے وطن پیارے وطن” کی باری تھی۔ تاہم مجھے پچھلے سال فریدہ خانم کا “ہم بولیں محبت کی زباں” بہت پسند آیا۔

13، 14 اور 15 اگست کو ہماری چھٹی تھی، سو تفصیلی تحریر بھی نہ لکھ پایا۔ اب اسی پر اکتفا کرنے پڑے گا۔


میمونہ، میری پیاری بھتیجی

میمونہ

میمونہ میرے بڑے بھائی کی سب سے چھوٹی بیٹی ہے۔ عمر ابھی 2 سال سے کم ہے لیکن ماشاء اللہ سے انتہائی سمجھدار ہے۔ بچپن ہی سے بہت کم روتی ہے بلکہ اگر کوئی جھڑکے تو رونے کا ناٹک کرتی ہے۔ سوتے وقت اگر کوئی پاس نہ ہو تو خود کو تھپکتے سو جاتی ہے۔ کافی ساری چیزوں کے نام کہنے پر سمجھ جاتی ہے۔ میمونہ کی ایک عادت ہے کہ اگر وہ اچھی طرح پانی پی لے لیکن اگر کوئی اور پی رہا ہو تو اس سے پھر مانگ کر پئے گی۔ اللہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اٰمین


کچھ اچھا ضرور ہے

احوال 2، اگست 2008 آراء (9)

بجائے ایک لمبی تمہید کے جسمیں بحیثیتِ قوم ہماری بے حسی، نکماپن، کام چوری اور جانے کیا کیا کمزوریاں بیان کی گئی ہوں اور ساتھ میں یہ شکوہ بھی کہ اسی سیلاب رواں میں ہم کچھ اچھے لوگوں اور واقعات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، میں سیدھی طرح بات شروع کرتا ہوں(پھر بھی لمبی تو ہو ہی گئی تمہید)۔
ہوا کچھ یوں کہ کل رات ہماری بجلی کی وہ سروس لائن (جو میٹر میں آکر لگتی ہے) اُڑ گئی۔ رات کے ایک بجے یہ ڈرامہ ہو اور اوپر سے آپ گاؤں سے 150 کلومیٹر کا فاصلے طے کر کے آرہے ہوں تو جناب اللہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے۔ پہلے تو روم میٹ سمیت جان ہتھیلی پر رکھ کر خود کچھ ٹرائی ماری لیکن ندارد۔ ویسے آپس کی بات ہے سروس لائن اور میٹر کے مسئلے عام صارف کیا کسی عام الیکٹریشن کو کرنے کی اجازت نہیں ہوتی کہ ایسی لائنوں کی طاقتور بجلی پل بھر میں آپکا بہاری کباب بنا سکتی ہے۔ خیر، جب کچھ نہ بن پڑا تو ہم نے سوچا آئیسکو والوں کو شکایت کرتے ہیں، شاید کچھ افاقہ ہو۔ آپریٹر نے بات تو اچھی کی لیکن ہمیں اس کی یہ بات کہ “الیکٹریشن اسوقت کسی اور کے مسئلے سے نبٹنے کیلیے سائٹ پر ہیں، وہ کرکے آپکی (بجلی کی)خبر لیتے ہیں”، ہمیں کام چوری کا معیار سرکاری جھوٹ معلوم ہوا۔ سو، موسم اچھا ہونے کی تسلی کرکے ہم لیٹنے کا ارادہ کرنے لگے۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔صرف پانچ منٹ بعد نیچے سے کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگیں۔ نیچے دیکھا تو یقین نہیں آیا کہ آئسکو کے لائن مین ہمارے میٹر اور سروس لائن کو لائن پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے دل سے آئسکو کیلیے دعائیں نکلی(جی ایسا ہی ہوا)۔ انہوں نے تار وغیرہ جوڑے، لیکن ہماری سروس لائن بالکل جل چکی تھی۔ اسوقت تار تو ملنی نہیں تھی سو صبح پر چھوڑ دی۔ تاہم ان میں سے ایک نے ڈنڈی ضرور ماری کہ تار خود لینی ہوگی۔ صبح میں نے ہمسایوں سے کنفرم کیا کہ تار ہم نے نہیں بلکہ انہوں نے ہی مہیا کرنی تھی۔
بہرحال قصہ مختصر صبح میں نے دوبارہ فون کیا تو آپریٹر نے فوراً صارف پہچان کر ہمیں تسلی دلائی کہ بس آپکا کام آج ہوا ہی چاہتا ہے اور دو گھنٹے بعد جب ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں، میں نے گھر فون کیا۔۔۔۔۔اور واقعی کام ہو چکا۔
اسلئے ہم کہتے ہیں اگر سب اچھانہیں تو ، “کچھ” اچھا ضرور ہے۔
شکریہ آئیسکو


Son of a lion

جہانِ‌فن 21، جولائي 2008 آراء (2)

ایک طرف امریکہ اور نیٹو پشتون اکثریت پر مشتمل طالبان سے نالاں ہیں تو دوسری طرف پشتون کلچر سے متاثر آسٹریلین ہدایتکار بنجامن گلمور نے درہ آدم خیل کے جنگ سے متاثرہ علاقہ میں بقدم خود جا کر ایک فلم بنائی ہے۔ فلم کا نام ”بچې شير“ یعنی Son of a lion ہے۔ یہ فلم ایک ایسے بچے کی کہانی ہے جو اپنے باپ کی اسلحہ فیکٹری میں کام کرنے کی بجائے سکول جانا چاہتا ہے۔ جرمن میگزین ”سپیگل آنلائن“ نے بنجامن گلمور سے اسی فلم کی بابت گفتگو جو کافی دلچسپی کا سامان لئے ہوئے ہے، یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
اور یہ رہا ٹریلر:


واپسی اور معذرت

سو، دو ہفتے کی مصروفیت کے بعد پھر سے موجاں یعنی جاب کی موجاں۔ بی اے کے امتحانات تھے، ابھی ایک پرچہ رہتا بھی ہے۔ گاؤں میں بندہ ایک ہفتہ رہے تو واپس آنے کو دل نہیں کرتا۔ ابھی بھی دل نہیں لگ رہا۔

اور ہاں ابوشامل اور وارث بھائی سے معذرت۔ میں اس ٹیگنگ کھیل سے بور ہو چکا ہوں، سو جوابات تحریر نہیں کر سکوں گا۔


سیاسیات سے چھٹکارا

عمومی مراسلے 3، جولائي 2008 آراء (2)

تو جناب ہم نے فیصلہ کیا ہے سیاسیات سے اس بلاگ کو پاک کیا جائے۔ فی زمانہ سیاست اتنا بُرا موضوع نہیں لیکن چونکہ ہم ٹھہرے پاکستانی ، تو ہمیں لکھنا بھی پاکستانی سیاست کے متعلق ہوگا اور کون نہیں جانتا کہ جتنی گندی پاکستانی سیاست ہے شاید کسی افریقی ملک میں بھی نہ ہو۔ کبھی دل چاہا تو لکھ لینگے لیکن فی الحال جو لکھا تو اسے بھی اُڑا دیا ہے تاکہ بانس و بانسری دونوں نہ رہیں۔


اگلا صفحہ »