کچھ اچھا ضرور ہے

بجائے ایک لمبی تمہید کے جسمیں بحیثیتِ قوم ہماری بے حسی، نکماپن، کام چوری اور جانے کیا کیا کمزوریاں بیان کی گئی ہوں اور ساتھ میں یہ شکوہ بھی کہ اسی سیلاب رواں میں ہم کچھ اچھے لوگوں اور واقعات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، میں سیدھی طرح بات شروع کرتا ہوں(پھر بھی لمبی تو ہو ہی گئی تمہید)۔
ہوا کچھ یوں کہ کل رات ہماری بجلی کی وہ سروس لائن (جو میٹر میں آکر لگتی ہے) اُڑ گئی۔ رات کے ایک بجے یہ ڈرامہ ہو اور اوپر سے آپ گاؤں سے 150 کلومیٹر کا فاصلے طے کر کے آرہے ہوں تو جناب اللہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے۔ پہلے تو روم میٹ سمیت جان ہتھیلی پر رکھ کر خود کچھ ٹرائی ماری لیکن ندارد۔ ویسے آپس کی بات ہے سروس لائن اور میٹر کے مسئلے عام صارف کیا کسی عام الیکٹریشن کو کرنے کی اجازت نہیں ہوتی کہ ایسی لائنوں کی طاقتور بجلی پل بھر میں آپکا بہاری کباب بنا سکتی ہے۔ خیر، جب کچھ نہ بن پڑا تو ہم نے سوچا آئیسکو والوں کو شکایت کرتے ہیں، شاید کچھ افاقہ ہو۔ آپریٹر نے بات تو اچھی کی لیکن ہمیں اس کی یہ بات کہ “الیکٹریشن اسوقت کسی اور کے مسئلے سے نبٹنے کیلیے سائٹ پر ہیں، وہ کرکے آپکی (بجلی کی)خبر لیتے ہیں”، ہمیں کام چوری کا معیار سرکاری جھوٹ معلوم ہوا۔ سو، موسم اچھا ہونے کی تسلی کرکے ہم لیٹنے کا ارادہ کرنے لگے۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔صرف پانچ منٹ بعد نیچے سے کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگیں۔ نیچے دیکھا تو یقین نہیں آیا کہ آئسکو کے لائن مین ہمارے میٹر اور سروس لائن کو لائن پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے دل سے آئسکو کیلیے دعائیں نکلی(جی ایسا ہی ہوا)۔ انہوں نے تار وغیرہ جوڑے، لیکن ہماری سروس لائن بالکل جل چکی تھی۔ اسوقت تار تو ملنی نہیں تھی سو صبح پر چھوڑ دی۔ تاہم ان میں سے ایک نے ڈنڈی ضرور ماری کہ تار خود لینی ہوگی۔ صبح میں نے ہمسایوں سے کنفرم کیا کہ تار ہم نے نہیں بلکہ انہوں نے ہی مہیا کرنی تھی۔
بہرحال قصہ مختصر صبح میں نے دوبارہ فون کیا تو آپریٹر نے فوراً صارف پہچان کر ہمیں تسلی دلائی کہ بس آپکا کام آج ہوا ہی چاہتا ہے اور دو گھنٹے بعد جب ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں، میں نے گھر فون کیا۔۔۔۔۔اور واقعی کام ہو چکا۔
اسلئے ہم کہتے ہیں اگر سب اچھانہیں تو ، “کچھ” اچھا ضرور ہے۔
شکریہ آئیسکو

9 آراء دي گئيں

1 افتخار اجمل بھوپال بتاريخ: ہفتہ، 2 اگست 2008 بوقت: 8:52 am

اس کو کہتے ہیں بلاگنگ کہ صرف سچ لکھا جائے ۔ اب آپ پوچھیں گے کہ دوسرا کیا ہوتا ہے ؟ وہ ہوتا ہے صحافت یعنی جدھر کی ہوا ہوئی اُدھر کی خبریں چھاپ دیں ۔

آپ کے بلاگ کے حاشیہ میں میرے بلاگ کا ربط پرانا ہے ۔ درست کر لیجئے
http://theajmals.com/blog

2 ساجداقبال بتاريخ: ہفتہ، 2 اگست 2008 بوقت: 12:51 pm

انکل جی آج مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میڈیا نے ہمیں کچھ زیادہ ہی نکما بنا دیا ہے اور اپنے مقاصد کیلیے یرغمال۔
یاد دلانے کا شکریہ میں نے نیا ربط شامل کر لیا ہے۔

3 ماوراء بتاريخ: ہفتہ، 2 اگست 2008 بوقت: 8:20 pm

زبردست۔ یہ تو ہمارے ہاں سے بھی زیادہ اچھے نکلے۔

4 خاور بتاريخ: اتوار، 3 اگست 2008 بوقت: 12:56 am

مورخه دو اگست دوهزار آٹھ کو مشرقی جاپان کے شہر اویاما کے اوشن میں مجھے میری
اس پوسٹ پر
جاپان مین مسلم لیگ نون کے کرتا دھرتاؤں نے مجھے دھمکیاں دی هیں
کہتے هیں که هم تمهارے گھر والوں کو اٹھوالیں گے ـ
کیا خیال ہے جی بیچ اس بات کے!ـ آپ صاحبان کا ؟؟
سچ لکھنے پر ؟؟
لکھنے والوں کی تنقید ضرور سننا چاهوں گا میں اپنی اس تحریر پر ـ

5 نعمان بتاريخ: اتوار، 3 اگست 2008 بوقت: 11:41 am

بات پرسپیکٹیو کی ہے۔ لوگ بہت ساری بری باتوں سے مایوس ہوجاتے ہیں تو کچھ اچھی باتیں انہیں دکھائی ہی نہیں دیتیں۔ ایسی اچھی باتوں کا ذکر تواتر سے ہونا چاہئے۔

6 نعمان علی بتاريخ: منگل، 5 اگست 2008 بوقت: 9:03 am

ساجد بھائی ، آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اردو بلاگنگ میں خوش آمدید بولا !! یہ جان کر بیحد خوشی ھوی کہ آپ کے اور میرے خیالات میں کافی ھم آھنگی ہے۔ امید کرتا ھوں کہ آب اپنے بلاگ کے روابط میں میرا نام / بلاگ شامل کر کے حوصلہ افزاہی کریں گے۔

امید ہے آپ مسقبل میں بہی میرے بلاگز پر سیر حاصل آراء دیتےرھیں گے

7 نعمان علی بتاريخ: منگل، 5 اگست 2008 بوقت: 9:05 am

سوری ، پہلی مرتبہ آپ کا نام غلط لکھ دیا ۔ امید ھے درگزر کریں گے

8 راہبر بتاريخ: بدھ، 6 اگست 2008 بوقت: 5:27 am

اچھا تو ویسے کافی کچھ ہے لیکن پھر جب وہ برا کرتے ہیں نا تو ہم اچھائی بہت جلد فراموش کردیتے ہیں۔ :razz:
چلیں، مبارک ہو اتنی جلدی مسئلہ کا حل ہونا۔

9 جانان گل بتاريخ: بدھ، 6 اگست 2008 بوقت: 2:13 pm

یقینآ ناقابل یقین سی بات لگتی ہے۔۔ لیکن اگر ایسا ہے تو دل کو بہت دھارس ملی ہے :eek: اسی کو بیناد بنا کر پاکستان کے باقی اداروں سے بھی بہتری کی امید کرتا ہوں۔۔۔۔

اپني رائے ديں

Englishاردو

Englishاردو