یہ کہانی پھر سہی۔۔۔ لیکن فی الحال ان سوالوں کے جواب جو جہانزیب نے شروع کیے اور رضوان بھائی سے ہوتے ہوئے ہماری طرف آپہنچے۔
اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟
میں سرما کے چند مہینے چھوڑ کر بالکل جراب نہیں پہنتا اور اس گرمی میں تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟
کچھ نہیں، بس ہمارے بلڈنگ کے سینٹرل کولنگ سسٹم کا شور ہی سنائی دے رہا ہے۔
سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟
ڈیری ملک کی چاکلیٹ۔
سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
Behind the enemy lines پہلے والی۔
آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟
ایک معاشرہ کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتا ہے بے انصافی کے ساتھ نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ۔(اللہ کمی بیشی معاف کرے۔)
کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟
سو رہا تھا، کھانا نہیں پکانا تھا سو جلدی سو گیا۔ کبھی کبھار ہی ہوتا ہے یہ مزہ۔
کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ۔
غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟
عجیب بات ہے میرا غصہ اکثر کنٹرولڈ ہوتا ہے۔
فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
ایک سابقہ کولیگ عمادالحق سے۔
آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟
عیدالفطر۔ دوستوں، رشتہ داروں اور گاؤں والوں سے ملکر خوشی ہوتی ہے۔
میں انہی سوالات کے جوابات شاکر، شگفتہ، زینب، شوبی اور وارث بھائی سے چاہوں گا۔
اپڈیٹ: میں نے اپنے تمام نامزد بلاگرز کا بذریعہ آراء مطلع کر دیا سوائے شاکر کے، کہ اسکا بلاگ ہی غائب ہے۔ اب جوابات کا انتظار ہے۔





