تحارير برائے: جولائي 2008 ...

Son of a lion

ایک طرف امریکہ اور نیٹو پشتون اکثریت پر مشتمل طالبان سے نالاں ہیں تو دوسری طرف پشتون کلچر سے متاثر آسٹریلین ہدایتکار بنجامن گلمور نے درہ آدم خیل کے جنگ سے متاثرہ علاقہ میں بقدم خود جا کر ایک فلم بنائی ہے۔ فلم کا نام ”بچې شير“ یعنی Son of a lion ہے۔ یہ فلم ایک ایسے بچے کی کہانی ہے جو اپنے باپ کی اسلحہ فیکٹری میں کام کرنے کی بجائے سکول جانا چاہتا ہے۔ جرمن میگزین ”سپیگل آنلائن“ نے بنجامن گلمور سے اسی فلم کی بابت گفتگو جو کافی دلچسپی کا سامان لئے ہوئے ہے، یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
اور یہ رہا ٹریلر:

واپسی اور معذرت

سو، دو ہفتے کی مصروفیت کے بعد پھر سے موجاں یعنی جاب کی موجاں۔ بی اے کے امتحانات تھے، ابھی ایک پرچہ رہتا بھی ہے۔ گاؤں میں بندہ ایک ہفتہ رہے تو واپس آنے کو دل نہیں کرتا۔ ابھی بھی دل نہیں لگ رہا۔

اور ہاں ابوشامل اور وارث بھائی سے معذرت۔ میں اس ٹیگنگ کھیل سے بور ہو چکا ہوں، سو جوابات تحریر نہیں کر سکوں گا۔

سیاسیات سے چھٹکارا

تو جناب ہم نے فیصلہ کیا ہے سیاسیات سے اس بلاگ کو پاک کیا جائے۔ فی زمانہ سیاست اتنا بُرا موضوع نہیں لیکن چونکہ ہم ٹھہرے پاکستانی ، تو ہمیں لکھنا بھی پاکستانی سیاست کے متعلق ہوگا اور کون نہیں جانتا کہ جتنی گندی پاکستانی سیاست ہے شاید کسی افریقی ملک میں بھی نہ ہو۔ کبھی دل چاہا تو لکھ لینگے لیکن فی الحال جو لکھا تو اسے بھی اُڑا دیا ہے تاکہ بانس و بانسری دونوں نہ رہیں۔

کوہاٹ تصاویر کے آئینے میں

یہ اصل میں ایک فورم کی تحریر تھی جو میں نے کوہاٹ کی تصاویر اکٹھی کرکے لکھی تھی۔ یہاں مکرر پیش کر رہا ہوں۔

کوہاٹ صوبہ سرحد کے جنوبی حصہ میں واقع ہے۔ کوہاٹ کے بارے میں آپ وکیپیڈیا پر یہاں‌ اور کوہاٹ کے تاریخ پر کتاب ”کوہاٹ تاریخ کے آئینے میں“ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ سردست میں کوہاٹ کی سیر آپکو تصاویر کے ذریعے کرواؤنگا۔
(فلکر کی ”نعمت“ سے محروم ملکوں والے دوستوں سے معذرت)

ذریعہ
یہ کوہاٹ کے مین بازار سے متصل فروٹ مارکیٹ۔ پھلوں‌ کی افزائشی علاقوں کو چھوڑ کر یہاں آپکو دعوے سے سب سی سستی قیمتوں پر پھل ملیں گے۔ جاري رکھيے »