تحارير برائے: اگست 2008 ...

اب کے ہم بچھڑے تو شاید

کہتے ہیں جب کسی بستی پر عذاب آتا ہے تو نیک لوگ پہلے اٹھا لیے جاتے ہیں۔ اب جبکہ فراز کی نگری ہنگو شورش کا شکار ہے، فراز نہیں رہے۔

عصرِ حاضر کے ممتاز شاعر احمد فراز طویل علالت کے بعد پیر کی رات اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر چھہتر برس تھی۔ مکمل خبر

اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔  اٰمین

اب نہ وہ ميں ہوں نہ تو ہے نہ وہ ماضي ہے فراز
جيسے دو سائے تمنا کے سرابوں ميں ملیں

مشرف کیونکر مستعفی ہوئے؟

آپ کہیں تم نے تو سیاست پر لکھنا چھوڑ دیا تھا، میں کہوں گا پہلے تحریر پوری پڑھ لیں۔

کوئی مشرف کے استعفے کا کریڈٹ زرداری کو دیتا ہے، تو کوئی اسے نواز شریف کی ”ثابت قدمی“ قرار دے رہا ہے۔ کچھ دوست اس امریکہ کی کارستانی قرار دیتے ہیں تو کچھ وکلاء کی تحریک کو اسکا سبب۔ لیکن آخر میں جنہوں نے میدان مارا، ان کی گواہی کیلیے یہ بینر جو پارلیمنٹ ہاؤس کے عین سامنے بلیو ایریا کے آخری اشارے پر نصب ہے:

متن:
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
—————————————————-
پیر پنجر سرکار کی کامیاب چلہ کشی
صدر مشرف کی رخصتی کا باعث بنی
—————————————————-
25اگست محفل شکرانہ
بروزسوموار 7 بجے تا 11 بجے تک
—————————————————-
آستانہ عالیہ کوہ قاف شریف نزد
کامرس کالج نیو پھگواڑی راولپنڈی
03009541202

یہ تحریر یہاں بھی پڑھی اور ڈسکس کی جا سکتی ہے۔

لیٹ جشن آزادی۔ ہم بولیں محبت کی زباں

موبی لنک جشن آزادی پر کسی لیجنڈری سنگر کو لیکرملی نغمہ پیش کرتا ہے۔ اس دفعہ امانت علی خان کی “اے وطن پیارے وطن” کی باری تھی۔ تاہم مجھے پچھلے سال فریدہ خانم کا “ہم بولیں محبت کی زباں” بہت پسند آیا۔

13، 14 اور 15 اگست کو ہماری چھٹی تھی، سو تفصیلی تحریر بھی نہ لکھ پایا۔ اب اسی پر اکتفا کرنے پڑے گا۔

میمونہ، میری پیاری بھتیجی

میمونہ

میمونہ میرے بڑے بھائی کی سب سے چھوٹی بیٹی ہے۔ عمر ابھی 2 سال سے کم ہے لیکن ماشاء اللہ سے انتہائی سمجھدار ہے۔ بچپن ہی سے بہت کم روتی ہے بلکہ اگر کوئی جھڑکے تو رونے کا ناٹک کرتی ہے۔ سوتے وقت اگر کوئی پاس نہ ہو تو خود کو تھپکتے سو جاتی ہے۔ کافی ساری چیزوں کے نام کہنے پر سمجھ جاتی ہے۔ میمونہ کی ایک عادت ہے کہ اگر وہ اچھی طرح پانی پی لے لیکن اگر کوئی اور پی رہا ہو تو اس سے پھر مانگ کر پئے گی۔ اللہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اٰمین

کچھ اچھا ضرور ہے

بجائے ایک لمبی تمہید کے جسمیں بحیثیتِ قوم ہماری بے حسی، نکماپن، کام چوری اور جانے کیا کیا کمزوریاں بیان کی گئی ہوں اور ساتھ میں یہ شکوہ بھی کہ اسی سیلاب رواں میں ہم کچھ اچھے لوگوں اور واقعات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، میں سیدھی طرح بات شروع کرتا ہوں(پھر بھی لمبی تو ہو ہی گئی تمہید)۔
ہوا کچھ یوں کہ کل رات ہماری بجلی کی وہ سروس لائن (جو میٹر میں آکر لگتی ہے) اُڑ گئی۔ رات کے ایک بجے یہ ڈرامہ ہو اور اوپر سے آپ گاؤں سے 150 کلومیٹر کا فاصلے طے کر کے آرہے ہوں تو جناب اللہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے۔ پہلے تو روم میٹ سمیت جان ہتھیلی پر رکھ کر خود کچھ ٹرائی ماری لیکن ندارد۔ ویسے آپس کی بات ہے سروس لائن اور میٹر کے مسئلے عام صارف کیا کسی عام الیکٹریشن کو کرنے کی اجازت نہیں ہوتی کہ ایسی لائنوں کی طاقتور بجلی پل بھر میں آپکا بہاری کباب بنا سکتی ہے۔ خیر، جب کچھ نہ بن پڑا تو ہم نے سوچا آئیسکو والوں کو شکایت کرتے ہیں، شاید کچھ افاقہ ہو۔ آپریٹر نے بات تو اچھی کی لیکن ہمیں اس کی یہ بات کہ “الیکٹریشن اسوقت کسی اور کے مسئلے سے نبٹنے کیلیے سائٹ پر ہیں، وہ کرکے آپکی (بجلی کی)خبر لیتے ہیں”، ہمیں کام چوری کا معیار سرکاری جھوٹ معلوم ہوا۔ سو، موسم اچھا ہونے کی تسلی کرکے ہم لیٹنے کا ارادہ کرنے لگے۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔صرف پانچ منٹ بعد نیچے سے کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگیں۔ نیچے دیکھا تو یقین نہیں آیا کہ آئسکو کے لائن مین ہمارے میٹر اور سروس لائن کو لائن پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے دل سے آئسکو کیلیے دعائیں نکلی(جی ایسا ہی ہوا)۔ انہوں نے تار وغیرہ جوڑے، لیکن ہماری سروس لائن بالکل جل چکی تھی۔ اسوقت تار تو ملنی نہیں تھی سو صبح پر چھوڑ دی۔ تاہم ان میں سے ایک نے ڈنڈی ضرور ماری کہ تار خود لینی ہوگی۔ صبح میں نے ہمسایوں سے کنفرم کیا کہ تار ہم نے نہیں بلکہ انہوں نے ہی مہیا کرنی تھی۔
بہرحال قصہ مختصر صبح میں نے دوبارہ فون کیا تو آپریٹر نے فوراً صارف پہچان کر ہمیں تسلی دلائی کہ بس آپکا کام آج ہوا ہی چاہتا ہے اور دو گھنٹے بعد جب ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں، میں نے گھر فون کیا۔۔۔۔۔اور واقعی کام ہو چکا۔
اسلئے ہم کہتے ہیں اگر سب اچھانہیں تو ، “کچھ” اچھا ضرور ہے۔
شکریہ آئیسکو