تحارير برائے زمرہ: 'عمومی مراسلے' ...

نیا افق

اردو ماسٹر ڈاٹ کام۔۔۔ایک عکس

میرے اس نئے افق کا نام ہے اردو ماسٹر۔ میرے اور عمار کے اشتراک سے اس سائٹ کا آغاز ہو چکا ہے۔ سائٹ تکنیکی مضامین کیلیے مخصوص ہے۔ اسمیں کیا کیا ہونا ہے؟ یہ جاننے کیلیے دیکھیے ابتدائی پوسٹ۔ رب کریم ہمیں اس کاوش کو مستقل مزاجی اور لگن سے جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کا ساتھ ہمارے لئے باعثِ فخر ہوگا۔

واپسی اور معذرت

سو، دو ہفتے کی مصروفیت کے بعد پھر سے موجاں یعنی جاب کی موجاں۔ بی اے کے امتحانات تھے، ابھی ایک پرچہ رہتا بھی ہے۔ گاؤں میں بندہ ایک ہفتہ رہے تو واپس آنے کو دل نہیں کرتا۔ ابھی بھی دل نہیں لگ رہا۔

اور ہاں ابوشامل اور وارث بھائی سے معذرت۔ میں اس ٹیگنگ کھیل سے بور ہو چکا ہوں، سو جوابات تحریر نہیں کر سکوں گا۔

سیاسیات سے چھٹکارا

تو جناب ہم نے فیصلہ کیا ہے سیاسیات سے اس بلاگ کو پاک کیا جائے۔ فی زمانہ سیاست اتنا بُرا موضوع نہیں لیکن چونکہ ہم ٹھہرے پاکستانی ، تو ہمیں لکھنا بھی پاکستانی سیاست کے متعلق ہوگا اور کون نہیں جانتا کہ جتنی گندی پاکستانی سیاست ہے شاید کسی افریقی ملک میں بھی نہ ہو۔ کبھی دل چاہا تو لکھ لینگے لیکن فی الحال جو لکھا تو اسے بھی اُڑا دیا ہے تاکہ بانس و بانسری دونوں نہ رہیں۔

احوالِ عید

شاید اب عادت ہو گئی ہے کہ ہر گزری عید کو بدترین عید قرار دینا۔ لیکن واقعی یہ عید کچھ اچھی نہیں تھی۔ پہلے تو حج کے دو دن بعد عید کچھ عجیب سی لگی، اوپر سے اپنے ملک کے حالات کہ اب تو کوئی دن ناامیدی کی گہرائیوں میں گرنے کے علاوہ کوئی خبر نہیں لاتا۔ سکول وین میں بچوں کی شہادت، گل جی کا قتل، اپنے گھروں میں عید منانے کی خواہش لیے ٹرین میں مدفون لوگ اور وہ لوگ جنکے بچوں کو یتیمی کی عیدی ملی۔ ایسی عید میں خوشیاں کاہے کی؟

عید کیلیے میرا سفر ۱۹ دسمبر کو مغرب کی نماز کے بعد شروع ہوا۔ عوامی مرکز سے نکل کر میں ججز کالونی کے سامنے والی سڑک پر آیا۔ مجھے یاد آیا ایک شخص ایسا بھی ہے اس دیس میں جو اس عید پر ناکردہ گناہوں کے جرم میں اپنے ہی گھر میں قید ہے۔ اسنے 16 کروڑ ہموطنوں کیلیے انصاف کی بات کی اور آج وہ خود انصاف کا متلاشی ہے۔

پنڈی کی ٹریفک کا عذاب بھگت کر پیرودھائی پہنچا۔ جن لوگوں نے پیرودھائی نہ دیکھا ہو تو کسی مقامی مچھلی مارکیٹ کا دورہ کر لیں۔ رات ۱۱ بجے گاؤں پہنچا۔ اگلا سارا دن نوید کیساتھ کوہاٹ میں گاڑی کی مرمت میں گزر گیا۔ میری غیر موجودگی میں ایک لطیفہ ہوا، وہ یہ کہ قربانی کی گائے جو ہم نے شراکت میں قربانی کیلیے لی تھی بھاگ گئی۔ گائے آنکھوں سے ہی کافی غصے والی لگ رہی تھی، گاڑی سے اترتے ہی اسنے بھاگنے میں دیر نہیں لگائی اور پھر کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد قریبی گاؤں سے گرفتار ہوئی۔

عید کے دن قربانی کے وقت بھی گائے سے کافی ریسلنگ کھیلنی پڑی۔ میرے والد، مجھے سے بڑے بھائی اور ایک جونئیر شریکِ قربانی کو چھوڑ کر، مجھ سمیت تمام لوگ ڈرپوک تھے۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے محلے کا جو قصائیوں میں خودکفیل ہے۔ جس وقت گائے کو گرانے کیلے کشتی جاری تھی ایک قصائی خاندان کے صاحب وہاں آنکلے۔ انہی کی بدولت ہم گائے کو چاروں پاؤں چت کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ ویسے رسی تو میں نے ہی لائی تھی  :wink:  ۔

باجود اس کے کہ ہمارا خاندان بہت چھوٹا ہے میں کسی رشتہ دار سے عید پر ان کے گھر جاکر نہیں مل سکا۔ اسلام آباد رہ رہ کر یہ سستی بڑھتی جا رہی ہے۔ بھلا ہو ممانی اور خالہ کا جو خود ملنے آگئیں۔ اگلے دن ان کے ہاں آنے کا وعدہ کیا لیکن وفا نہ کر سکے۔

"ہیلو ورلڈ" ۔ ۔ ۔ خوش آمدید

مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں بلاگسپاٹ یا ورڈپریس ڈاٹ کام پر اکاؤنٹ بنا کر سوچا کرتا تھا کہ اب ان کا کیا کروں؟ جب مجھے سمجھ آیا تو انکشاف ہوا کہ میں نے انٹرنیٹ کی ایک خوبصورت صنف یعنی “بلاگنگ” دریافت کر لی ہے(ویسے مجھے کولمبس سے کم خوشی ہوئی تھی) :smile: ۔ اردو وہ واحد زبان ہے جو میں قدرے روانی سے بول اور لکھ سکتا ہوں لیکن میری تحریریں اس بات کی شاہد ہیں کہ اردو پر مکمل گرفت مجھے حاصل نہیں، خاص کر الفاظ کے بہاؤ پر کنٹرول۔

اور مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب اردو ٹیکنالوجی بلاگ شروع کر کے میں سوچا کرتا تھا کہ اسے پڑھنے کون آئیگا(ویسے اب بھی کم لوگ آتے ہیں باالفاظ دیگر منہ لگاتے ہیں  :wink: )۔ لیکن اللہ کا لاکھ شکر کہ اردو بلاگز دھیرے دھیرے بڑھ رہے ہیں۔ اور مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ ان میں سے کئی سارے بلاگر کافی معیاری تحریریں لکھ رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ میں نے یہ بلاگ کیوں شروع کیا؟؟ جیسا کہ آپ نہیں جانتے(اور کچھ جانتے ہیں) کہ میں پچھلے ڈیڑھ سال سے ٹیکنالوجی کے موضوعات پر مبنی اردو ٹیکنالوجی بلاگ لکھ رہا ہوں۔ تو ثابت ہوا کہ ہم ٹیکنالوجی پر ٹوٹا پھوٹا لکھ لیتے ہیں، اب حل طلب یہ معمہ ہے کہ کیا ہم بلاگ کی اصل روح یعنی آن لائن ڈائری پر پورا اتر سکتے ہیں، جہاں میں اپنے اردگرد ہونے والے واقعات رقم اور ان پر اپنا نقطہ نظر پیش کرسکوں؟ اس مقصد کیلیے یہ بلاگ بنایا گیاہے۔ خواتین سے منسوب رنگوں کی تھیم دیکھ کر گھبرائیے مسکرائیے گا نہیں اور ہاں باقاعدگی کی توقع مجھ سے نہ رکھیے۔ اور آخر میں میری طرف سے بہت بہت

عیدالاضحٰی مبارک