یہ اصل میں ایک فورم کی تحریر تھی جو میں نے کوہاٹ کی تصاویر اکٹھی کرکے لکھی تھی۔ یہاں مکرر پیش کر رہا ہوں۔
کوہاٹ صوبہ سرحد کے جنوبی حصہ میں واقع ہے۔ کوہاٹ کے بارے میں آپ وکیپیڈیا پر یہاں اور کوہاٹ کے تاریخ پر کتاب ”کوہاٹ تاریخ کے آئینے میں“ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ سردست میں کوہاٹ کی سیر آپکو تصاویر کے ذریعے کرواؤنگا۔
(فلکر کی ”نعمت“ سے محروم ملکوں والے دوستوں سے معذرت)

ذریعہ
یہ کوہاٹ کے مین بازار سے متصل فروٹ مارکیٹ۔ پھلوں کی افزائشی علاقوں کو چھوڑ کر یہاں آپکو دعوے سے سب سی سستی قیمتوں پر پھل ملیں گے۔ جاري رکھيے »
شاید اب عادت ہو گئی ہے کہ ہر گزری عید کو بدترین عید قرار دینا۔ لیکن واقعی یہ عید کچھ اچھی نہیں تھی۔ پہلے تو حج کے دو دن بعد عید کچھ عجیب سی لگی، اوپر سے اپنے ملک کے حالات کہ اب تو کوئی دن ناامیدی کی گہرائیوں میں گرنے کے علاوہ کوئی خبر نہیں لاتا۔ سکول وین میں بچوں کی شہادت، گل جی کا قتل، اپنے گھروں میں عید منانے کی خواہش لیے ٹرین میں مدفون لوگ اور وہ لوگ جنکے بچوں کو یتیمی کی عیدی ملی۔ ایسی عید میں خوشیاں کاہے کی؟
عید کیلیے میرا سفر ۱۹ دسمبر کو مغرب کی نماز کے بعد شروع ہوا۔ عوامی مرکز سے نکل کر میں ججز کالونی کے سامنے والی سڑک پر آیا۔ مجھے یاد آیا ایک شخص ایسا بھی ہے اس دیس میں جو اس عید پر ناکردہ گناہوں کے جرم میں اپنے ہی گھر میں قید ہے۔ اسنے 16 کروڑ ہموطنوں کیلیے انصاف کی بات کی اور آج وہ خود انصاف کا متلاشی ہے۔
پنڈی کی ٹریفک کا عذاب بھگت کر پیرودھائی پہنچا۔ جن لوگوں نے پیرودھائی نہ دیکھا ہو تو کسی مقامی مچھلی مارکیٹ کا دورہ کر لیں۔ رات ۱۱ بجے گاؤں پہنچا۔ اگلا سارا دن نوید کیساتھ کوہاٹ میں گاڑی کی مرمت میں گزر گیا۔ میری غیر موجودگی میں ایک لطیفہ ہوا، وہ یہ کہ قربانی کی گائے جو ہم نے شراکت میں قربانی کیلیے لی تھی بھاگ گئی۔ گائے آنکھوں سے ہی کافی غصے والی لگ رہی تھی، گاڑی سے اترتے ہی اسنے بھاگنے میں دیر نہیں لگائی اور پھر کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد قریبی گاؤں سے گرفتار ہوئی۔
عید کے دن قربانی کے وقت بھی گائے سے کافی ریسلنگ کھیلنی پڑی۔ میرے والد، مجھے سے بڑے بھائی اور ایک جونئیر شریکِ قربانی کو چھوڑ کر، مجھ سمیت تمام لوگ ڈرپوک تھے۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے محلے کا جو قصائیوں میں خودکفیل ہے۔ جس وقت گائے کو گرانے کیلے کشتی جاری تھی ایک قصائی خاندان کے صاحب وہاں آنکلے۔ انہی کی بدولت ہم گائے کو چاروں پاؤں چت کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ ویسے رسی تو میں نے ہی لائی تھی :wink: ۔
باجود اس کے کہ ہمارا خاندان بہت چھوٹا ہے میں کسی رشتہ دار سے عید پر ان کے گھر جاکر نہیں مل سکا۔ اسلام آباد رہ رہ کر یہ سستی بڑھتی جا رہی ہے۔ بھلا ہو ممانی اور خالہ کا جو خود ملنے آگئیں۔ اگلے دن ان کے ہاں آنے کا وعدہ کیا لیکن وفا نہ کر سکے۔