کوہاٹ تصاویر کے آئینے میں

یہ اصل میں ایک فورم کی تحریر تھی جو میں نے کوہاٹ کی تصاویر اکٹھی کرکے لکھی تھی۔ یہاں مکرر پیش کر رہا ہوں۔

کوہاٹ صوبہ سرحد کے جنوبی حصہ میں واقع ہے۔ کوہاٹ کے بارے میں آپ وکیپیڈیا پر یہاں‌ اور کوہاٹ کے تاریخ پر کتاب ”کوہاٹ تاریخ کے آئینے میں“ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ سردست میں کوہاٹ کی سیر آپکو تصاویر کے ذریعے کرواؤنگا۔
(فلکر کی ”نعمت“ سے محروم ملکوں والے دوستوں سے معذرت)

ذریعہ
یہ کوہاٹ کے مین بازار سے متصل فروٹ مارکیٹ۔ پھلوں‌ کی افزائشی علاقوں کو چھوڑ کر یہاں آپکو دعوے سے سب سی سستی قیمتوں پر پھل ملیں گے۔

ذریعہ
کوہاٹ کی ”دوستی ٹنل“ جو جاپان کی مدد سے تعمیر کی گئی۔ ٹنل کی بدولت درہ آدم خیل کا 50 منٹ کا فاصلہ اب 5 منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔‌کوہاٹ ٹنل کے بارے میں مزید

ذریعہ
ٹنل کا اندرونی منظر۔ کوہاٹ‌ ٹنل ہر لحاظ سے ایک عالمی معیار کی ٹنل ہے۔ ہم پہلے اللہ اور پھر جاپان کے شکرگزار ہیں۔

ذریعہ
پرانی انڈس ہائے وے، یہ گیٹ درہ آدم خیل کے حدود کے خاتمے اور کوہاٹ کی آمد کا اعلان کرتا ہے۔ تاہم ٹنل بن جانے کے بعد یہ سڑک تقریباً متروک ہو چکی ہے۔ یہ گیٹ‌ برٹش دور کی یادگار ہے۔

درہ آدم خیل کا زکر آگیا تو ایک جھلک ضرور دیکھیں۔ درہ آدم خیل اور دیگر کئی قبائلی علاقے ایف آر کوہاٹ‌ کے تحت آتے ہیں۔ باقاعدہ کوہاٹ ضلع کا حصہ تو نہیں لیکن ایڈمنسٹریشن یہی سے ہوتی ہے۔

ذریعہ
کوہاٹ کینٹ میں نصب گھوڑوں‌ کا مجسمہ۔ کوہاٹ کینٹ‌ انگریز دور سے ہی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ کوہاٹ کے آس پاس قبائلی علاقے واقع ہیں۔

ذریعہ
کینٹ میں نصب عجب خان آفریدی کا مجسمہ۔ درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے اس حریت پسند کا کوہاٹ‌کی تاریخ‌ میں‌ لازوال کردار ہے۔ اچھے وقت میں لالی ووڈ اور پشتو انڈسٹری نے انکے متعلق فلمیں بھی بنائی تھیں۔

ذریعہ
تاندہ، کوہاٹ کا سب سے بڑا ڈیم ہے۔ کوہاٹ‌ کی زیادہ زرخیز زمینیں‌ اسی ڈیم اور اسکی نہروں کے گرد واقع ہیں۔

ذریعہ
گھمگھول شریف کا مزار۔ کوہاٹ‌ میں‌ چونکہ لوگ پیروں کو زیادہ لفٹ‌ نہیں کراتے اسلئے زیادہ زائرین کی تعداد پنجاب کے علاقوں سے ہوتی ہے۔

ذریعہ
توغبالا کے مقام پر واقع کیڈٹ کالج کوہاٹ، کوہاٹ‌ کے قدیم تعلیمی اداروں میں‌ سے ایک ہے۔ کالج کے بالکل سے سامنے والی سڑک علاقہ غیر جاتی ہے، جو منشیات کی سمگلنگ کیلیے بدنام ہے۔

ذریعہ
امرود بیچتے بچے۔ کوہاٹ کا پانی اور امرود بہت مشہور ہیں۔ ناقدین لاڑکانہ کے امرودوں کو بہتر قرار دیتے ہیں۔

ذریعہ
کوہاٹ کے جڑواں‌ علاقے جنگل خیل میں واقع چشمے۔ گرمیوں‌ میں قریبی علاقوں سے بچے نہانے یہاں‌ آتے ہیں۔

اگلی دفعہ ان شاء اللہ کوشش کرونگا کہ خود سے تصاویر کھینچ کر پیش کروں۔

5 آراء دی گئیں »

umeed بتاریخ: بدھ، 9 جولائی 2008 بوقت: 1:16 pm

بہت خوب ۔ ۔ایک دفعہ گزر تو ہوا ہے کوہاٹ سے مگر آپ کی تحریر سے شہر کی خوبصورتی کا صحیحح اندزہ ہوتا ہے

ساجداقبال بتاریخ: ہفتہ، 19 جولائی 2008 بوقت: 7:45 am

آپ غالباً انڈس ہائی وے سے گزری ہونگی، جو شہر سے دس کلومیٹر باہر ہے۔

umeed بتاریخ: اتوار، 20 جولائی 2008 بوقت: 11:16 am

انڈس ہایئ سے بھی اور ایک دفعہ شہر سے بھی ۔ ۔ ۔ ۔پر یہ کسی بھی شہر کو جاننے کے لئے ناکافی ہے

ساجداقبال بتاریخ: پیر، 21 جولائی 2008 بوقت: 5:44 am

بالکل، جیسے میں نے اٹک، ملتان، حیدرآباد، ڈی آئی خان، ڈی جی خان صرف گزرتے ہوئے دیکھے ہیں۔ کیا آپ نے پشاور دیکھا ہے؟

جانان گل بتاریخ: پیر، 21 جولائی 2008 بوقت: 12:58 pm

واه بهئ مزه آګيا. بهت خوبصورت تصويريں هيں

اپنی رائے دیں

Englishاردو

Englishاردو