بچپن کی یادیں ہندی فلموں سے زیادہ منٹو کے افسانے ہوتے ہیں۔۔۔چھوٹی چھوٹی۔۔۔سو کوئی طویل واقعہ تو لکھنا مشکل ہے لیکن چھوٹے چھوٹے کئی واقعات ایسے ہیں جو 'یادگار'(کم ازکم میرے لئے) کہے جاسکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ جو مجھے کبھی نہیں بھولتا:
ہمارے گاؤں سے تھوڑے دور، پنڈی جانے والے سڑک کے کنارے ہمارے کھیت (اب منی فارم)ہیں۔ 12/13 سال پہلے کی بات ہے۔ جب گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں ہمارا پسندیدہ مشغلہ آوارہ گردی تھا۔ گھر میں ادھر بڑے سوتے تھے اور ادھر ہم پچھلے دروازے سے فرار۔ کبھی ہمارے دل کو برساتی نالے ميں نہا کر چین آتا اور کبھی فاختاؤں کے بچے چرا کر سکون۔ اسکے علاوہ بھی کئی شوق تھے جو فی سیزن بدلتے رہتے تھے۔ ان معرکوں میں ہمارے(میں اور کچھ محلے کے لڑکوں) کے سردار میرے مرحوم بھائی(حکمت اقبال) ہوتے تھے۔ گو وہ عمر میں مجھ سے سال ہی بڑے تھے لیکن گھر سے باہر انکا تجربہ کافی وسیع تھا۔اوائل عمری میں کافی ساری چیزوں کے بارے میں مجھے انہی کے توسط سے معلوم ہوا۔
بات شروع ہوئی ہمارے کھیتوں سے، وہیں چلتے ہیں۔ ایک دفعہ گرما کی دوپہر میں ہمیں اپنے ان کھیتوں کی سیر کی سوجھی۔ ٹیم سائیکلوں پر روانہ ہوئی(ایسے میں ریسنگ تو واجب ہوتی تھی)۔ منزل پر پہنچے ادھر ادھر کا فضول جائزہ شروع ہوا۔ اتنے میں ایک ٹویوٹا ہائی لکس رکی۔ اسمیں سے کچھ افراد نکلے اور وہاں موجود ہمارے کنوئیں کا جائزہ لینے لگے۔ ہم ان سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھے۔ ہمارے بڑے بھائی سرگوشی میں سب سے مخاطب ہوئے کہ یہ ڈاکو ہیں اور ہمیں اٹھا لے جائینگے۔ یہ سننا تھا کہ ہم سب نے سرپٹ گاؤں کیطرف دوڑ لگا دی۔ میرے جیسے ایک دو کانپتے ہوئے دوڑنے لگے۔ کئی ایک بار کسی کی چپل پیچھے رہ گئی اور وہ ہیبت میں چپل اٹھاتا اور بھاگنے لگتا۔ مجھے یقین ہے کہ ان لوگوں کو، جن کے ڈر سے ہم بھاگے تھے، حیرت ہوئی ہوگی کہ ان لڑکوں کو کھڑے کھڑے کیا ہوگیا کہ سائیکلیں چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ گاؤں کے گرڈ سٹیشن کے برابر پہنچے تو وہی ہائی لکس برابر ميں رکی اور اسمیں سے کسی شخص نے آواز لگائی کہ وہ سائیکلیں تو لیتے جاؤ۔ ہم اسے جھانسا سمجھ کر مزید تیز بھاگنے لگے اور گاؤں کے بازار ميں جا کے دم لیا کہ اب تو محفوظ جگہ پر آگئے ہیں۔ جب اچھی طرح اطمینان ہو گیا کہ ڈاکو حضرات تشریف لے جا چکے تو واپس کھیتوں پر جاکر سائیکلیں لیں اور گھر واپس آگئے۔ بعد میں کئی دفعہ ہم اس واقعے کو یاد کر کے ہنستے رہے۔
بظاہر اس واقعہ میں ایسا کچھ خاص نہیں لیکن وہ گھبراہٹ اور دوڑنا آج بھی جب یاد آتا ہے تو بے اختیار ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔
بچپن زندہ باد!
یہ تحریر شگفتہ کی تجویز پر منظرنامہ کے زیرنگرانی شروع کیے گئے سلسلے "ہفتہ بلاگستان" کیلیے لکھی گئی۔
بچپن نامہ: ایک واقعہ
ہفتہ، 15 اگست 2009 — احوال ، یادیں
18 آراء دی گئیں »
کیا بات ہے سادہ دلی کی کیا دن ہوتے تھے یار۔
بہر عرصے بعد لالے کدھر غائب تھا پھر کسی دوڑ میں تو نہیں تھا ۔
پہل پر مبارکباد۔ واقعی بچپن چھوٹی چھوٹی معصوم حرکتوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب ہم بڑے ہوتے ہیں تو یقین نہیںآتا کہ وہ حرکتیں ہم سے سرزد ہوئیں۔
ساجد بھائی ۔۔۔۔۔ بچپن کے دنوں کی ایسی منظر کشی اور واقعات کا تذکرہ کرکے کیوں ہم جیسے بے وطنوں کو سرد آہ بھرنے پر مجبور کرتے ہو ۔
ویسے بچپن ، انسان کی زندگی کے حوالے سے سب سے انمول دور ہوتا ہے ۔ کاش انسان اپنے اس دور کا بے ساختہ پن بھی زندگی کے دوسرے ادوار میں بھی قائم رکھ سکے ۔ آپ کے مذید بچپن کے واقعات کا انتظار رہے گا ۔
پتا نہیں 12 تیرہ سال پہلے کو کیسے ہضم کیا؟
بہت عمدہ دوڑ ہے
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت خوب۔ پاکستان میں تو امی ابو نے ڈرایا بھی اتنا ہوتا ہے کہ باہر نہیں جانا۔۔کوئی پکڑ کر لے جائے گا۔وغیرہ وغیرہ۔۔ بس وہی ڈر ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ جو ڈاکو نہیں بھی ہوتے، ڈاکو ہی لگتے ہیں۔
عنوان میں ہفتہ بلاگستان بھی لکھیں نا–:(
پہل آپ نے کر لی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرے اللہ نے مجھے کمزور تو شاید بنایا ہو مگر ڈرپوک نہیں ۔ پہلا نمبر آپ لے گئے ۔ میں نے دوسرے نمبر پر آنے کی کوشش کی ہے لیکن کچھ پتہ نہیں کہ کتنے درمیان مین آ جائیں
http://www.theajmals.com/blog/2009/08/16
یہ نہیںپتا لگا کہ وہ ہائی لکس تھی کن کی؟
واقعی ڈاکو تھے؟
کنفیوزکامی: جی ادھر ہی ہیں۔ شکریہ رائے دینے کا۔
میرا پاکستان: پہل غالباً کامران اصغر کامی نے کی تھی۔ شکریہ
ظفری: فی الحال تو میں خود بھی گاؤں سے دور ہوں اور کافی دنوں بعد جانا ہوتا ہے۔ واقعی بچپن کی یادیں کانٹا چبھنے کے میٹھے درد کیطرح ہوتی ہیں۔
رضوان: شکریہ بھائی۔ کچھ اوپر سے گزر گیا۔
عمراحمدبنگش: بہت شکریہ۔
ماوراء: شکریہ بڑی بی۔ لگا دیا ہے پوسٹ کے نیچے۔
افتخاراجمل بھوپال: شکریہ انکل جی۔
ڈفر: نہیں جی پتہ نہیں لگا۔ لیکن ڈاکو نہیں تھے وہ۔
12/13 سال پہلے کی بات ہے
“چھڈو مٹی پاؤ”
میں ق لیگ کا ممبر ہوں اس واسطے
“چھڈو مٹی پاؤ”
ساجد صاحب منٹو کے افسانے
کیا بات ہے۔۔ کیا بھول گئے آپ کہ
“مثل مشہور ہے کہ سردی رُوئی سےجاتی ہےیادُوئی سی۔لیکن اگریہ اسباب ناپیدہوں اورسردی زیادہ اورلحاف پتلاہوتوغریب غربامحض منٹوکےافسانےپڑھ کرسورہتےہیں”
لیکن شکر کہ آپ کا واقعہ کچھ ایسا منٹوانہ نہیں تھا
نہ جی اتنے لمبے لمبے وقفے۔۔۔
اپنے واقعات والی پٹاری میں سے سب سے ہومیوپیتھک واقعہ نکالا ہے آپ نے۔۔۔
واہ ۔۔یہ نیچے والی پٹی تو زبردست لگ رہی ہے۔
لالے کی جان: اب اس عمر میں ہم بچپنا تھوڑی کر سکتے ہیں بارہ تیرہ سال پیچھے ہی جانا تھا۔
منٹوانہ واقعات کیلیے بلاگ مناسب جگہ نہیں۔ 
راشدکامران:
جعفر: وقفے یعنی تحریروں کا وقفہ؟ آج سے ڈیوٹی ٹائم 12 کی بجائے 8 گھنٹے ہو گیا ہے، گھر پر جیسے ہی انٹرنیٹ لگواؤں گا، کشتے پشتے لگاؤں گا۔
ماوراء: یہ اس تحریر کیساتھ ہی کچھ کلاسز ڈالی ہیں، اوکے، ایرر اور سادہ میسجز کیلیے۔
یاد دھانی کا شکریہ لالا میرا ٹیگ والا کام ہو اکہ نہیں کب آئے گی پوسٹ اور پی کے والا وردپریس پر کیا چلتا ہے کیا نہیں چلتا یہ تو بتا دو ۔
[...] بچپن نامہ ، ایک واقعہ از ساجد اقبال ۔ ۔ ۔ [...]
بحت خوب!
ذبردست۔۔۔۔۔۔۔۔۔I miss Hikmat.
اپنی رائے دیں