بلاعنوان

لوڈ کی پرواہ نہیں ڈالر کی ضرورت ہے۔

پرانا اور نیا سال

لیجیے ایک اور نیا سال شروع ہو گیا۔ پچھلے سال تو میں نے فیض کی ایک دل جلی سے نظم شائع کر کے جان چھڑوا لی لیکن اس دفعہ کچھ لمبا لکھنے کا ارادہ ہے۔
پہلے ذکر کچھ پچھلے سال کے سود و زیاں کا۔ پچھلے سال کی سب سے بڑی کامیابی جسے میں قرار دے سکتا ہوں وہ ہے تھوڑی بہت مستقل مزاجی کا حصول۔ اس مستقل مزاجی کو بلاگنگ کے کلیے سے نا چانچیے گا کیونکہ زندگی کے کئی اور پیمانے اس کی گواہی کیلیے موجود ہیں جنکا بنظر خود مشاہدہ کرنے کیلیے آپکو جہاز کا ٹکٹ کٹا کر اسلام آباد آنا ہوگا۔ دوسری اہم کامیابی میرے لیے یہ تھی کہ اس سال میں نے رشتہ داروں سے تعلقات پیوستہ رہ شجر سے زیادہ بڑھ کر اچھے رکھے اور کچھ "متوقع" رشتہ داروں سے تعلقات کی وجہ سے میری منگنی بھی ٹوٹنے سے بچ گئی(اللہ کا شکر)۔ منگنی کے ذکر کے بعد ناکامیوں کا رونا مناسب رہیگا۔ پہلی ناکامی یہ کہ 2008ء میں میرا پکا ارادہ تھا کہ شادی کے بندھن میں بندھ جاؤں لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میری سستی اور پلاننگ سے عاری زندگی آڑے آئی اور ہم بیچلر سے بیچارے(شوہر) کی مسافت نہ طے کر سکے۔ جاری رکھيے »

For Hire: کسی پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کی پہلی کتاب

آصف حسین شاہ راولپنڈی/اسلام آباد میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے کی تگ و دو میں کوشاں ایک عام ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں عام ٹیکسی ڈرائیوروں نے ممتاز کرتی ہے وہ حال میں ہی انکی فیروز سنز سے شائع ہونے والی کتاب فار ہائر(For Hire) ہے۔ 120 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ایک عام آدمی کی خوابوں، آرزؤں اور ان کو پانے کی کوششوں کی کہانی ہے۔
کتاب کی تقریب رونمائی(تصویر اخباری تراشے سے لی گئی ہے)۔
اس کتاب کی تقریب رونمائی آپبارہ ٹیکسی سٹینڈ میں کچھ ٹیکسی ڈرائیوروں اور راہگیروں کے جلو میں ہوئی۔ یہ تقریب ان کتابوں کی تقریب رونمائی کیطرح نہ تھی جہاں مصنف کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں، اور یہ کام وہ بھی کرتے ہیں جو مصنف کے پورے نام سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ اس تقریب میں ٹیکسی ڈرائیورز ایسوسی ایشن کے صدر نے آصف حسین شاہ کی اس کاوش کو اپنی کمیونٹی کیلیے فخر قرار دیا۔
مصنف کی دی نیوز سے بات چیت یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ کتاب اسلام آباد میں فی الوقت سپر مارکیٹ(F-6 مرکز) میں مسٹر بکس پر 150 روپے کے عوض دستیاب ہے۔
اپ ڈیٹ: بی بی سی اردو نے اسی حوالے سے آج یہ خبر لگائی ہے۔

عید نامہ

کہیں بس پر پڑھا تھا کہ 'یاراں نال بہاراں'۔ اس جملے کے صحیح معنی ہمیں اس عید پر معلوم ہوئے جب قریباً تین سال بعد اس عید پر سارے دوست ایک ہی وقت میں عید منانے آن ٹپکے اور صحیح معنوں میں لطف دوبالا ہوگیا۔
دوست بھلے ہی عید کی رنگینیوں کا بڑا حصہ ہوتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ خود زندہ دل ہوں اور کسی تہوار یا خوشی کو صحیح معنوں میں منانا چاہتے ہوں تو اصل مزہ اسی وقت آتا ہے۔ خود میری عید بیتی یوں ہوتی ہے کہ عید کے دن سوئے اور کہیں گئے نہیں اور عید کا مزہ نہیں آیا۔ بندہ پوچھے جب سوتے رہے اور کہیں گئے ہی نہیں تو مزہ خاک آئیگا۔ ہاں اگر کہیں جانے کی جگہ نہ ہو تو بھاڑ نامی جزیرہ بُری جگہ نہیں۔ :wink:
ہماری عید کہانی ہمیشہ اسلام آباد سے شروع ہوتی ہے، جس کی وجہ سے آغاز زرا پھیکا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے جب آپ عید پر اسلام آباد کی 80 فیصد(کچھ زیادہ تو نہیں بول گیا؟) آبادی کی چہل پہل غائب پائینگے تو پھیکا تو ہونا ہی ہے۔ سو اب کی بار بھی یہی ہوا اور اوپر سے عین آخری موقع پر ہماری ایک موبائل آپریٹر سے کنکشن ٹنل خراب ہوگئ، جس کا خمیازہ مجھے 4گھنٹے تاخیر سے روانگی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ خیر جیسے تیسے ہم مغرب کے بعد ہلکی بارش میں راولپنڈی روانہ ہوئے جہاں کوہاٹ جانے والی آخری گاڑی شاید ہمارے ساتھ ساتھ کچھ اور مسافروں کی منتظر تھی۔ یہاں ایک ٹپ نوٹ کریں کہ عید کے دنوں کے رش سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ سب سے آخری دن کے آخری اوقات میں جایا کریں، خیر ممکن ہے بڑے شہروں کیلیے یہ طریقہ کارگر نہ ہو۔ ہم جس گاڑی میں کوہاٹ روانہ ہوئے اس کی حالت قابل رحم تھی۔ رات کا وقت، بارش کے بعد دھند اور گاڑی کی لائٹوں کی روشنی بمشکل ۵ میٹر تک محدود۔ ڈھائی گھنٹے کا فاصلہ 4 گھنٹے میں طے ہوا۔
عید کی صبح، اباجی کی نصیحت نظر انداز کرتے ہوئے ہم نے ناشتہ کیا اور کپڑے بدل کے نماز پڑھنے چلے گئے۔ میرے والد عید گاہ جاتے ہیں جبکہ میں بازار میں واقع جامع مسجد، کیونکہ میرے زیادہ جاننے والے وہیں ہیں۔ عید کے بعد میری پکی عادت ہے کہ مسجد کے قریب واقع دوست کے گھر سب سے پہلے جاتا ہوں جہاں چاول یا مٹھائی میری منتظر ہوتی ہے۔ وہاں سے فارغ ہو کر میں گھر روانہ ہوا اور امی، ابو، بھائیوں، بھابھیوں وغیرہ وغیرہ سے ملنے کے بعد قربانی کی تیاریاں شروع۔ ہماری ہاں کوشش ہوتی ہے کہ قربانی ظہر کے نماز سے پہلے مکمل کر لی جائے، اسلئے نمازِ عید کے فوراً بعد قربانی کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔
پچھلے سال کی طرح اس دفعہ بھی ہماری گائے خاصی جمناسٹک کی شوقین تھی لیکن پچھلے والی سے زرا شریف۔ تاہم میں اپنے بھائی کیطرف سے دوسری قربانی میں تھا جہاں کی گائے، 'اللہ میاں کی گائے' کے مصداق تھی۔ ہم نے آرام سے رسی سے باندھا اور موصوفہ شرافت سے زمین پر آ رہی۔ ہم سے کچھ ہی فاصلے پر والد صاحب کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ قربانی کر رہے تھے۔ انکی گائے زرا مشکل سے سر بسجود ہوئی۔ زبح ہونے کے بعد میرا کام صرف ٹانگیں پکڑنا ہوتا ہے تاکہ گائے کی کھال 'اتاری' جا سکے۔
یہاں کھال کے بارے میں بتاتا چلوں کہ ہمارے یہاں کھال کے حصول کے معاملات میں صرف قصائی یا بیوپاری حضرات شامل ہوتے ہیں۔ تنظیموں وغیرہ کا ٹارگٹ شہر ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں مدرسے ہی واحد تنظیم ہوتے ہیں جو اس 'جنگ' میں ایک فریق ہوتے ہیں لیکن کبھی نہیں سنا کہ اس معاملے میں مار کٹائی کی نوبت آئی ہو۔
عموماً ہم عید کے دوسرے دن ہی رشتہ داروں کے گھر جاتے ہیں، اگر قریب ہوں تو شام میں ہو آتے ہیں۔ چونکہ میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں رشتہ داروں سے زیادہ دوست پیارے ہوتے ہیں، اسلئے میرے لیے عید کی سب سے بڑی خوشی دوستوں سے ملاقات اور گپ شپ ہوتی ہے۔ اس دفعہ تمام دوست بشمول بیرون ملک مقیم، عید کے موقع پر موجود تھے، اس لئے عید توقع سے زیادہ اچھی گزری۔
(زکام اور سر درد کیوجہ سے کچھ بے ربط سے پوسٹ ہو گئی، طبیعت سنبھلتے ہی بمعہ تصاویر اپ ڈیٹ کرتا ہوں)۔

عیدالاضحٰی مبارک

میری طرف سے تمام پڑھنے والوں کی عیدالاضحٰی کی خوشیاں مبارک۔ اور ایک نصیحت کے زیادہ مت کھائیے گا۔

ٹیگ: عید نامہ

پاکستان میں ان شاء اللہ بروز منگل عیدالاضحٰی منائی جائیگی، غالباً کافی سارے ممالک ہم سے ایک دن پہلے یعنی بروز پیر سعودی عرب کے ہمراہ عید منائیں گے۔ ہر ملک، صوبے، علاقے میں عید منانے کے الگ الگ انداز ہیں۔ اس عید پر سوچا کیوں نہ یہ جانا جائے کہ آپکے علاقے میں عید کس طرح منائی جاتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپکے علاقے میں جانور کی پہلی ٹانگیں کاٹی جاتی ہوں (کہ بھاگ نہ جائے)۔ P:۔ تو جناب اس ٹیگ کے کھیل میں آپ نے کرنا یہ ہے کہ اپنے ہاں عیدالاضحٰی منانے کے طور طریقوں کا آپ نے ذکر کرنا ہے اور اگر باتصویر ہو تو کیا ہی بات ہے۔ بیشک ماٹھے اردو اخباروں کیطرح کسی بچے کی تصویر لگا کر کیپشن لکھ دیں کہ ''کراچی میں عید منانے کا انداز''۔ دو باتوں کا خیال رکھنا ہے کہ موضوع پر تنوع کیلیے اپنے علاقے سے ہٹ کر بلاگرز کو ٹیگ کریں اور دوسرے ایک ہفتے کے اندر اندر اپنی تحریر لکھ دیں، یہ نہ ہو کہ عید کا کھایا پیا ہضم کر کے تین ہفتے بعد خالی پیٹ تحریر لکھ رہے ہوں۔ اور ہاں آپکے لیے عید آفر کہ صرف اور صرف دو بلاگرز کو ٹیگ کرنا ہے۔
میں ٹیگ کرونگا ابوشامل کو تاکہ مجھے معلوم ہو کہ کراچی میں عید کس انداز کی ہوتی ہے، شاید لگے ہاتھوں وہ اندرون سندھ کی عید کہانی بھی سُنا دیں۔ دوسرا ٹیگ فرحت کیانی، وہ بتائیں کہ لندن میں عید کیسے ہوتی ہے (اگر تادم تحریر وہ وہیں ہیں)۔ اور ہاں جو بھائی/بہن پڑھیں، ٹیگ کے انتظار میں نہ رہیں بلکہ اپنی تحریر موقع ملتے ہیں لکھ ماریں۔
میں عید کے چوتھے پانچویں روز لکھوں گا ۔ ۔ ۔ اب گیند آپکے کورٹ میں۔