آصف حسین شاہ راولپنڈی/اسلام آباد میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے کی تگ و دو میں کوشاں ایک عام ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں عام ٹیکسی ڈرائیوروں نے ممتاز کرتی ہے وہ حال میں ہی انکی فیروز سنز سے شائع ہونے والی کتاب فار ہائر(For Hire) ہے۔ 120 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ایک عام آدمی کی خوابوں، آرزؤں اور ان کو پانے کی کوششوں کی کہانی ہے۔

اس کتاب کی تقریب رونمائی آپبارہ ٹیکسی سٹینڈ میں کچھ ٹیکسی ڈرائیوروں اور راہگیروں کے جلو میں ہوئی۔ یہ تقریب ان کتابوں کی تقریب رونمائی کیطرح نہ تھی جہاں مصنف کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں، اور یہ کام وہ بھی کرتے ہیں جو مصنف کے پورے نام سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ اس تقریب میں ٹیکسی ڈرائیورز ایسوسی ایشن کے صدر نے آصف حسین شاہ کی اس کاوش کو اپنی کمیونٹی کیلیے فخر قرار دیا۔
مصنف کی دی نیوز سے بات چیت یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ کتاب اسلام آباد میں فی الوقت سپر مارکیٹ(F-6 مرکز) میں مسٹر بکس پر 150 روپے کے عوض دستیاب ہے۔
اپ ڈیٹ: بی بی سی اردو نے اسی حوالے سے آج یہ خبر لگائی ہے۔
For Hire: کسی پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کی پہلی کتاب
جمعہ، 19 دسمبر 2008 — میرے لوگ
8 آراء دی گئیں »
اس شخص سے دو تین بار میری ملاقات ہوئی ہے مگر مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ ٹیکسی ڈرائیور ہے ۔ اب ملا تو میں اُسے مبارک دوں گا ۔ بہت خُوب کام کیا اس نے ۔ انشاء اللہ جلد میں اس کی کتاب خریدنے ایف 6 سُپر مارکیٹ جاؤں گا ۔ آج مجھے یاد آیا ایک ٹانگے والا جو راولپنڈی میں بنی چوک کے پاس کھڑا ہوتا تھا ۔ اُس زمانہ میں میں نویں یا دسویں جماعت میں پڑھتا تھا یعنی 55 سال پہلے کی بات ہے ۔ وہ اُس زمانہ میں کتاب لکھ رہا تھا ۔
بہت خوب کام کیا ہے اس نے یقناً اس کی کتاب پڑھنے لائک ہوگی۔
یہ تو اب افتخار انکل ہی بتائیں گے۔
علم پیشے کا پابند نہیں.. مجھے بہت خوشی ہوئی ہے..
جس زمانے میں ہم ایک عدد دکان کے مالک ہوا کرتے تھے ان دنوں محلے کے ایک بزرگ کو علاقے بھر کا واحد “اقبال شناس” میں ہی ملا تھا اس لیے وہ عموماً نماز مغرب یا عشاء کے بعد میرے پاس آ کر علامہ کے مختلف اشعار پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے ایک بہت شاندار بات کہی کہ اگر کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو دو افراد سے سیکھنا ایک نائی سے، دوسرا ٹیکسی ڈرائیور سے کیونکہ ان کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہوتا ہے اور یہ بھانت بھانت کے لوگوں سے ملتے ہیں اور پھر اگلی سواری ملنے تک ان کے پاس سوچنے کا وقت بھی ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کریانہ کی دکان کا مالک پورا دن دو اور دو کو پانچ بنانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے
کتاب کا عنوان تو انگریزی ہے۔ لکھی بھی انگریزی میں ہی ہے یا ترجمہ ہوا ہے؟
واہ یار، یہ ہوئی نہ بات
ایسے لوگ ھمارے معاشرے کا فخر ہیں، ان کی قرر کرنی چاہیے اور ان کو پبلسٹی بھی ملنی چاہیے۔
عمار کتاب اردو میں ہے، مصنف اس کا انگریزی ترجمہ بھی چھاپنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
واہ زبردست
اپنی رائے دیں