نیا سال

سنتے ہیں کل سے نیا سال شروع ہونے والا ہے۔۔۔

لیکن کیا ہمارے روز و شب بدل جائینگے؟ یا ہم انہی دائروں میں گھومتے رہینگے؟ پچھلا سال اس دیس کے باسیوں کا سب سے برا سال تھا، دعا ہے اگلا سال زیادہ نہ سہی تھوڑی خوشیاں لیکر آئے۔ اٰمین

 

فیض کے الفاظ میں نیا سال:

اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟
ہر طرف خَلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے

روشنی دن کی وہي تاروں بھري رات وہی
آج ہم کو نظر آتي ہے ہر ايک بات وہی

آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں
ايک ہندسے کا بدلنا کوئي جدت تو نہيں

اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرينے تيرے
کسے معلوم نہيں بارہ مہينے تيرے

جنوري، فروري اور مارچ ميں پڑے گي سردي
اور اپريل، مئي اور جون ميں ہو گي گرمي

تيرا مَن دہر ميں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا
اپنی ميعاد بَسر کر کے چلا جائے گا

تو نيا ہے تو دکھا صبح نئي، شام نئی
ورنہ اِن آنکھوں نے ديکھے ہيں نئے سال کئی

بے سبب لوگ ديتے ہيں کيوں مبارک باديں
غالبا بھول گئے وقت کی کڑوي ياديں

تيری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی
فيض نے لکھی ہے يہ نظم نرالے ڈھب کی

بشکریہ

4 آراء دی گئیں »

جانان گل بتاریخ: منگل، 1 جنوری 2008 بوقت: 12:54 pm

بہت خوب۔۔۔۔۔۔ موقع مناسبت سے اچھی نظم ہے۔۔ او فیض صاحب نے کیا کمال کی لکھی ہے۔

نیا سال | دریچہ بتاریخ: جمعرات، 1 جنوری 2009 بوقت: 2:09 am

[...] نظم بشکریہ ساجد اقبال [...]

پرانا اور نیا سال — دائرہ بتاریخ: جمعرات، 1 جنوری 2009 بوقت: 7:00 pm

[...] شروع ہو گیا۔ پچھلے سال تو میں نے فیض کی ایک دل جلی سے نظم شائع کر کے جان چھڑوا لی لیکن اس دفعہ کچھ لمبا لکھنے کا ارادہ [...]

المحمول ألعاب مروحة بتاریخ: اتوار، 11 اکتوبر 2009 بوقت: 9:27 pm

هذا هو موقع جيد جدا جدا للهواتف النقالة

اپنی رائے دیں

Englishاردو

Englishاردو