پٹھانوں کا کیا اعتبار

نوٹ: کوئی اس تحریر کو صوبائیت و لسانیت کا شاخسانہ کہے تو مجھے کوئی تکلیف نہیں۔ میرا مدعا صوبائی حقوق ہیں۔
خوشحال گڑھ پُل
یہ خوشحال گڑھ کا تاریخی پُل ہے۔ 104 سال سے اس جگہ ایستادہ یہ پُل قیام پاکستان کے بعد سے جنوبی سرحد اور پنجاب کے درمیان سرحد کا کام کرتا ہے۔ یہاں اگر آپ سرحد کیطرف سے آئیں تو ایک کلومیٹر کے فاصلے میں چار دفعہ آپکی تلاشی لی جاتی ہے، اور اگر آپ پنجاب سے آ رہے ہوں اور ساتھ میں راجہ بازار سے ایٹم بم خرید کر لا رہے ہوں تو کوئی چیکنگ نہیں۔ ہاں آجکل پنجاب سے آٹا لانا قابل تعزیر جُرم ہے، بھلے "خادمِ اعلٰی" اعلان کرتے رہیں کہ آٹے کے نقل و حمل پر کوئی پابندی نہیں۔
سرحد میں آجکل آٹے اور سونے کی قیمتوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ پنجاب سے آتے ہوئے قدرے سستے قیمت پر آٹا خرید کر سرحد لے جائیں لیکن حالت یہ ہے کہ پابندی ختم ہونے کے باوجود ہائی وے پٹرولنگ پولیس والے اپنی چوکی پر آٹا پکڑ لیتے ہیں اور متاثرین پنجاب اور خادم اعلٰی کو گالیاں دیتے رہ جاتے ہیں۔
یہ پچھلے جمعرات کی بات ہے، میں گاؤں جا رہا تھا۔ ہماری گاڑی ہائی وے پٹرولنگ پوسٹ پر پہنچی، حسبِ دستور "گوگل آٹا سرچ" شروع ہوئی۔ ڈرائیور نے پولیس والے سے کہا کہ مجھے اپنی گاڑی کا پتہ ہے اسمیں کسی سواری نے آٹا نہیں لادا۔ پولیس والے نے سڑک کنارے رکھی آٹے کی بوریوں کیطرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا پٹھانوں کا کیا اعتبار۔۔۔تم سے پہلے ایک گاڑی کی تلاشی لی اسمیں سے یہ نکلیں۔
اتفاق سے وہ جس علاقے میں کھڑا تھا اسکی بجلی اور گیس دونوں پٹھانوں کے دیس سے آتی ہیں۔

8 آراء دی گئیں »

نعمان بتاریخ: منگل، 11 نومبر 2008 بوقت: 5:17 pm

آٹے کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی ویسے ہی ایک فضول بات ہے۔ کراچی میں پنجاب سے جی بھر کر آٹا آتا ہے اور اب تو یوکرائین اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے بھی آنے لگا ہے۔ پھر بھی نہ آٹے کی قیمت کم ہوتی ہے نہ اس کی قلت۔

ویسے اگر واقعی سرحد میں سونے اور آٹے کی قیمت ایک ہے تو میں جلد ہی وہاں آتا ہوں۔ امید ہے چیک پوسٹ والوں کو میرے سونا لے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

افتخار اجمل بھوپال بتاریخ: منگل، 11 نومبر 2008 بوقت: 5:25 pm

اس میں کسٹم پولیس والے کا کم اور ہم لوگوں کا زیادہ قصور ہے کیونکہ ہم لوگوں کی اکثریت برملا جھوٹ بولتی ہے ۔

جس پل کی آپ نے تصویر دی ہے کیا یہ ابھی استعمال ہو رہا ہے ؟ اس کے قریب عرصہ دراز گذرا متبادل پل بنے ۔

ڈفر بتاریخ: منگل، 11 نومبر 2008 بوقت: 6:06 pm

مجھے تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی پڑھ کر
آگ لگتی ہے تو دھواں اٹھتا ہے۔ لیکن ایک بات کہوں گا کہ قصور پنجاب یا حکومت پنجاب کا نہیں‌وفاقی حکومت کا ہے

روسی شہری بتاریخ: منگل، 11 نومبر 2008 بوقت: 8:04 pm

جب اپ کے نمائندوں کو خیال نہیں دوسروں الزام دھرنا فصول ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اپ ہی کے مولانا فصول ہے جو کرپٹ حکومت سے مل کر اپنا پیٹ بھرتے رہے ۔عوام کا خیال نہیں کیا نوبت یہاں تک ا پہنچی ہے ۔۔۔۔۔ویسے کچھ بھی ہو جا ئے الزام پنچابیوں دھرنا فیشن ہے ۔۔۔۔۔۔ ادھر پنجاب میں غریبوں کی حا لت اتنی بری ہے کیا بتا و !!!

قدیر احمد بتاریخ: بدھ، 12 نومبر 2008 بوقت: 10:19 am

کیا کہہ سکتے ہیں :???:

فیصل بتاریخ: بدھ، 12 نومبر 2008 بوقت: 6:38 pm

پہلی بات تو یہ کہ صوبہ سرحد اگر صحیح‌منصوبہ سازی کرے تو اسے پنجاب سے گندم کی ضرورت ہی نہیں‌پڑے گی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں اتنی زمین پڑی ہے کہ وہ سارے صوبے کا پیٹ‌بھرنے کو کافی ہے۔لیکن اسوقت وہاں گنا اگایا جا رہا ہے جو زمیندار سے اونے پونے خرید کر چینی بنائی جاتی ہے اور کچھ افغانستان اور باقی ملک چلی جاتی ہے۔ یہی حال چارسدہ مردان کا ہے جہاں‌تمباکو اگتا ہے جسکی پراسسنگ غالبآ پنجاب میں‌ہوتی ہے اور فائدہ تمباکو ساز ادارے اٹھاتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ اگر پنجاب سے گندم آ بھی جائے تو وہ فورآ افغانستان بلکہ وسط ایشیا تک سمگل ہو جاتی ہے۔ اسمیں‌قصور قومی اور صوبائی دونوں‌قسم کے اداروں کا ہے۔ کسٹم، پالیٹٰکل ایجنٹ، سیاستدان سب کو حصہ ملتا ہے۔ اب اگر صوبائی ادارے ٹھیک ہوتے تو یہ سلسہ روکا جا سکتا ہے کہ گندم جیبوں‌میں‌نہیں‌بلکہ ٹرکوں‌میں‌سمگل ہوتی ہے اور اسکا پکڑنا آسان ہے بہ نسبت دوسری قیمتی اشیا مثلا سونا، کرنسی یا اسلحہ کے۔
اس بات میں‌شائد پنجاب کا اتنا قصور نہیں‌ہے :(

آن لائن اخباری رپوٹر بتاریخ: جمعرات، 11 دسمبر 2008 بوقت: 3:52 pm

بھائی بات بس اتنی یے کہ ہم میں سے ہی چند لوگوں نے غلط کام کر کے باقی سب لوگوں پہ سے بھی اقتبار اتھوا دیا ہے۔ چایے پنجابی ہو، سندھی ہو، بلوچی ہو یا پتھان اگر وہ مئلک کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کو سزا ملنی چاہیے۔ اور ہم سب کو بھی سب سے پہلے پاکستانی بن کے سوچنا چاہیے اور بعد میں پنجابی، سندھی، بلوچی اور پتھان۔ اپنے اندر برداشت اور تحمل پیدا کرنا چاہیے۔ :grin:

شعیب سعید شوبی بتاریخ: جمعرات، 11 دسمبر 2008 بوقت: 9:58 pm

ساجد مملکت خداداد پاکستان میں کسی کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس میں کسی صوبائیت و لسانیت کی تخصیص نہیں۔ میں کسی زمانے میں سعودی عرب میں ہوتا تھا تو میں نے دیکھا کہ وہاں سعودی پاکستانیوں کو ’’چور‘‘ کہتے تھے۔ (سعودی چور کے لئے جو لفظ استعمال کرتے ہیں وہ اردو میں نہایت بری گالی ہے۔ اور ان کا ماننا تھا کہ پاکستانیوں کا کوئی اعتبار نہیں۔ جب دوسرے لوگوں کا ہمارے بارے میں یہ خیال ہے تو اپنے ملک کے لوگوں سے کیا شکایت؟ :cry:

اپنی رائے دیں

Englishاردو

Englishاردو