ایک طرف امریکہ اور نیٹو پشتون اکثریت پر مشتمل طالبان سے نالاں ہیں تو دوسری طرف پشتون کلچر سے متاثر آسٹریلین ہدایتکار بنجامن گلمور نے درہ آدم خیل کے جنگ سے متاثرہ علاقہ میں بقدم خود جا کر ایک فلم بنائی ہے۔ فلم کا نام ”بچې شير“ یعنی Son of a lion ہے۔ یہ فلم ایک ایسے بچے کی کہانی ہے جو اپنے باپ کی اسلحہ فیکٹری میں کام کرنے کی بجائے سکول جانا چاہتا ہے۔ جرمن میگزین ”سپیگل آنلائن“ نے بنجامن گلمور سے اسی فلم کی بابت گفتگو جو کافی دلچسپی کا سامان لئے ہوئے ہے، یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
اور یہ رہا ٹریلر:
Son of a lion
پير، 21 جولائي 2008 — جہانِفن







2 آراء دي گئيں
انټر ويو اچها هے، فلم بهي اچهي هوګي
مُحترم
پروپیگنڈہ نے دنیا کو بہروپیا بنا ڈالا ہے ۔ میں کسی زمانہ میں قبائلی علاقوں میں انفرادی طور پر اور بحثیت سرکاری افسر جاتا رہا ہوں ۔ وزیرستان جس کے لوگوں کو جنگجو ۔ انتہاء پسند ۔ دہشتگرد اور سب سے بڑھ کر تعلیم سے محروم کہا جاتا ہے وہ لوگ انسانی لحاظ سے ہم سے بہتر ہیں ۔ بلا شُبہ حُکمرانوں نے پچھلے پچاس سالوں میں اُن کیلئے کچھ نہیں کیا لیکن وزیرستان کے لوگوں نے تعلیم بھی حاصل کی ہے اور ترقی بھی کی ہے بھوکا رہ کر اور ملیشیا پہن کر ۔ سولہ سال قبل میرے محکمہ میں ساتھی تھے ضیاء الدین جو اس وقت فنانشل ایڈوائزر تھے پاکستان آرڈننس فیکٹری کے ۔ ایاز وزیر جو کہ آجکل قلمکار ہیں پاکستان کے سفیر رہے ہیں ۔ نوجوان گل معاب مکینیکل انجنیئر جب میں دس سال قبل یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا تو وہاں لیکچرر تھے ۔ ان سب کے خاندان اب بھی وزیرستان میں رہتے ہیں ۔
اپني رائے ديں