تحارير برائے زمرہ: 'عمومی مراسلے' ...
اتوار، 17 مئی 2009 — احوال ، اعلانات ، اپنا دکھڑا
ایک دفعہ پھر سے میرے بلاگ پر خوش آمدید!
بلاگنگ میں چلنا، رکنا (start, pause) تو لگا ہی رہتا ہے، لیکن جس تواتر سے اس عادتِ بد پر میں کاربند ہوں شاید ہی کوئی اور ہو۔ لیکن اس دفعہ "ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا" کے مصداق ہمارے پاس بھی 'ودھیا' بہانہ ہے۔ جی ہاں آپ میں سے کئی احباب جانتے ہی ہونگے کہ پچھلے ماہ ہماری زندگی میں شادی نامی خوشگوار واقعہ(یا حادثہ) رونما ہوا۔ جاننے والوں، دوستوں اور دوسرے احباب کے ڈراوے "کچھ نہ دوا نے کام کیا" ہو گئے اور ہم مورخہ 12 اپریل 2009ء کو اس دریا میں کود ہی گئے۔ تادمِ تحریر شادی ایک خوشگوار تجربہ ہے اور رب کریم سے دعا ہے کہ 'خوشگوار' ہی رہے۔ اٰمین
بیگم
بیگم کا کچھ تعارف کراتا چلوں۔ میری بیگم کا تعلق ہمارے گاؤں کے قریب ایک دوسرے گاؤں "گنڈیالی" سے ہے۔ تعلیم ان کی بی-اے تک ہے اور وہ اپنی گاؤں کی واحد بی-اے کرنے والی خاتون ہیں۔ عمر تقریباً میرے برابر ہی ہے، وگرنہ گاؤں میں اکثر 4 تا 5 سال کا فرق میاں بیوی کی عمر میں عام ہے۔
واپسی کے بعد
گو کام پر میری واپسی شادی کے ایک ہفتہ بعد ہی ہو گئی تھی لیکن اسکے بعد تک کے عرصے(اور شادی سے پہلے بھی) میں دفتری کاموں میں پھنسے رہنے کی بناء پر اپنے بلاگوں پر کچھ نہیں لکھ سکا۔ دفتری مصروفیات ابھی بھی وہی کی وہیں ہیں تاہم امید ہے کہ تھوڑے بہت فارغ اوقات میں اپنے بلاگوں پر کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں گا۔ ان شاء اللہ
25 آراء
جمعرات، 1 جنوری 2009 — احوال ، اپنا دکھڑا ، تصاویر ، عمومی مراسلے ، ٹیگ
لیجیے ایک اور نیا سال شروع ہو گیا۔ پچھلے سال تو میں نے فیض کی ایک دل جلی سے نظم شائع کر کے جان چھڑوا لی لیکن اس دفعہ کچھ لمبا لکھنے کا ارادہ ہے۔
پہلے ذکر کچھ پچھلے سال کے سود و زیاں کا۔ پچھلے سال کی سب سے بڑی کامیابی جسے میں قرار دے سکتا ہوں وہ ہے تھوڑی بہت مستقل مزاجی کا حصول۔ اس مستقل مزاجی کو بلاگنگ کے کلیے سے نا چانچیے گا کیونکہ زندگی کے کئی اور پیمانے اس کی گواہی کیلیے موجود ہیں جنکا بنظر خود مشاہدہ کرنے کیلیے آپکو جہاز کا ٹکٹ کٹا کر اسلام آباد آنا ہوگا۔ دوسری اہم کامیابی میرے لیے یہ تھی کہ اس سال میں نے رشتہ داروں سے تعلقات پیوستہ رہ شجر سے زیادہ بڑھ کر اچھے رکھے اور کچھ "متوقع" رشتہ داروں سے تعلقات کی وجہ سے میری منگنی بھی ٹوٹنے سے بچ گئی(اللہ کا شکر)۔ منگنی کے ذکر کے بعد ناکامیوں کا رونا مناسب رہیگا۔ پہلی ناکامی یہ کہ 2008ء میں میرا پکا ارادہ تھا کہ شادی کے بندھن میں بندھ جاؤں لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میری سستی اور پلاننگ سے عاری زندگی آڑے آئی اور ہم بیچلر سے بیچارے(شوہر) کی مسافت نہ طے کر سکے۔ جاري رکھيے »
9 آراء
بدھ، 15 اکتوبر 2008 — اعلانات

میرے اس نئے افق کا نام ہے اردو ماسٹر۔ میرے اور عمار کے اشتراک سے اس سائٹ کا آغاز ہو چکا ہے۔ سائٹ تکنیکی مضامین کیلیے مخصوص ہے۔ اسمیں کیا کیا ہونا ہے؟ یہ جاننے کیلیے دیکھیے ابتدائی پوسٹ۔ رب کریم ہمیں اس کاوش کو مستقل مزاجی اور لگن سے جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کا ساتھ ہمارے لئے باعثِ فخر ہوگا۔
6 آراء
ہفتہ، 19 جولائی 2008 — احوال ، عمومی مراسلے
سو، دو ہفتے کی مصروفیت کے بعد پھر سے موجاں یعنی جاب کی موجاں۔ بی اے کے امتحانات تھے، ابھی ایک پرچہ رہتا بھی ہے۔ گاؤں میں بندہ ایک ہفتہ رہے تو واپس آنے کو دل نہیں کرتا۔ ابھی بھی دل نہیں لگ رہا۔
اور ہاں ابوشامل اور وارث بھائی سے معذرت۔ میں اس ٹیگنگ کھیل سے بور ہو چکا ہوں، سو جوابات تحریر نہیں کر سکوں گا۔
2 آراء
جمعرات، 3 جولائی 2008 — عمومی مراسلے
تو جناب ہم نے فیصلہ کیا ہے سیاسیات سے اس بلاگ کو پاک کیا جائے۔ فی زمانہ سیاست اتنا بُرا موضوع نہیں لیکن چونکہ ہم ٹھہرے پاکستانی ، تو ہمیں لکھنا بھی پاکستانی سیاست کے متعلق ہوگا اور کون نہیں جانتا کہ جتنی گندی پاکستانی سیاست ہے شاید کسی افریقی ملک میں بھی نہ ہو۔ کبھی دل چاہا تو لکھ لینگے لیکن فی الحال جو لکھا تو اسے بھی اُڑا دیا ہے تاکہ بانس و بانسری دونوں نہ رہیں۔
3 آراء
منگل، 25 دسمبر 2007 — احوال ، عمومی مراسلے ، گمبٹ/کوہاٹ
شاید اب عادت ہو گئی ہے کہ ہر گزری عید کو بدترین عید قرار دینا۔ لیکن واقعی یہ عید کچھ اچھی نہیں تھی۔ پہلے تو حج کے دو دن بعد عید کچھ عجیب سی لگی، اوپر سے اپنے ملک کے حالات کہ اب تو کوئی دن ناامیدی کی گہرائیوں میں گرنے کے علاوہ کوئی خبر نہیں لاتا۔ سکول وین میں بچوں کی شہادت، گل جی کا قتل، اپنے گھروں میں عید منانے کی خواہش لیے ٹرین میں مدفون لوگ اور وہ لوگ جنکے بچوں کو یتیمی کی عیدی ملی۔ ایسی عید میں خوشیاں کاہے کی؟
عید کیلیے میرا سفر ۱۹ دسمبر کو مغرب کی نماز کے بعد شروع ہوا۔ عوامی مرکز سے نکل کر میں ججز کالونی کے سامنے والی سڑک پر آیا۔ مجھے یاد آیا ایک شخص ایسا بھی ہے اس دیس میں جو اس عید پر ناکردہ گناہوں کے جرم میں اپنے ہی گھر میں قید ہے۔ اسنے 16 کروڑ ہموطنوں کیلیے انصاف کی بات کی اور آج وہ خود انصاف کا متلاشی ہے۔
پنڈی کی ٹریفک کا عذاب بھگت کر پیرودھائی پہنچا۔ جن لوگوں نے پیرودھائی نہ دیکھا ہو تو کسی مقامی مچھلی مارکیٹ کا دورہ کر لیں۔ رات ۱۱ بجے گاؤں پہنچا۔ اگلا سارا دن نوید کیساتھ کوہاٹ میں گاڑی کی مرمت میں گزر گیا۔ میری غیر موجودگی میں ایک لطیفہ ہوا، وہ یہ کہ قربانی کی گائے جو ہم نے شراکت میں قربانی کیلیے لی تھی بھاگ گئی۔ گائے آنکھوں سے ہی کافی غصے والی لگ رہی تھی، گاڑی سے اترتے ہی اسنے بھاگنے میں دیر نہیں لگائی اور پھر کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد قریبی گاؤں سے گرفتار ہوئی۔
عید کے دن قربانی کے وقت بھی گائے سے کافی ریسلنگ کھیلنی پڑی۔ میرے والد، مجھے سے بڑے بھائی اور ایک جونئیر شریکِ قربانی کو چھوڑ کر، مجھ سمیت تمام لوگ ڈرپوک تھے۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے محلے کا جو قصائیوں میں خودکفیل ہے۔ جس وقت گائے کو گرانے کیلے کشتی جاری تھی ایک قصائی خاندان کے صاحب وہاں آنکلے۔ انہی کی بدولت ہم گائے کو چاروں پاؤں چت کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ ویسے رسی تو میں نے ہی لائی تھی :wink: ۔
باجود اس کے کہ ہمارا خاندان بہت چھوٹا ہے میں کسی رشتہ دار سے عید پر ان کے گھر جاکر نہیں مل سکا۔ اسلام آباد رہ رہ کر یہ سستی بڑھتی جا رہی ہے۔ بھلا ہو ممانی اور خالہ کا جو خود ملنے آگئیں۔ اگلے دن ان کے ہاں آنے کا وعدہ کیا لیکن وفا نہ کر سکے۔
1 رائے