تحارير برائے زمرہ: 'احوال' ...

بچپن نامہ: ایک واقعہ

بچپن کی یادیں ہندی فلموں سے زیادہ منٹو کے افسانے ہوتے ہیں۔۔۔چھوٹی چھوٹی۔۔۔سو کوئی طویل واقعہ تو لکھنا مشکل ہے لیکن چھوٹے چھوٹے کئی واقعات ایسے ہیں جو 'یادگار'(کم ازکم میرے لئے) کہے جاسکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ جو مجھے کبھی نہیں بھولتا:
ہمارے گاؤں سے تھوڑے دور، پنڈی جانے والے سڑک کے کنارے ہمارے کھیت (اب منی فارم)ہیں۔ 12/13 سال پہلے کی بات ہے۔ جب گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں ہمارا پسندیدہ مشغلہ آوارہ گردی تھا۔ گھر میں ادھر بڑے سوتے تھے اور ادھر ہم پچھلے دروازے سے فرار۔ کبھی ہمارے دل کو برساتی نالے ميں نہا کر چین آتا اور کبھی فاختاؤں کے بچے چرا کر سکون۔ اسکے علاوہ بھی کئی شوق تھے جو فی سیزن بدلتے رہتے تھے۔ ان معرکوں میں ہمارے(میں اور کچھ محلے کے لڑکوں) کے سردار میرے مرحوم بھائی(حکمت اقبال) ہوتے تھے۔ گو وہ عمر میں مجھ سے سال ہی بڑے تھے لیکن گھر سے باہر انکا تجربہ کافی وسیع تھا۔اوائل عمری میں کافی ساری چیزوں کے بارے میں مجھے انہی کے توسط سے معلوم ہوا۔ جاري رکھيے »

واپسی

ایک دفعہ پھر سے میرے بلاگ پر خوش آمدید!
بلاگنگ میں چلنا، رکنا (start, pause) تو لگا ہی رہتا ہے، لیکن جس تواتر سے اس عادتِ بد پر میں کاربند ہوں شاید ہی کوئی اور ہو۔ لیکن اس دفعہ "ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا" کے مصداق ہمارے پاس بھی 'ودھیا' بہانہ ہے۔ جی ہاں آپ میں سے کئی احباب جانتے ہی ہونگے کہ پچھلے ماہ ہماری زندگی میں شادی نامی خوشگوار واقعہ(یا حادثہ) رونما ہوا۔ جاننے والوں، دوستوں اور دوسرے احباب کے ڈراوے "کچھ نہ دوا نے کام کیا" ہو گئے اور ہم مورخہ 12 اپریل 2009ء کو اس دریا میں کود ہی گئے۔ تادمِ تحریر شادی ایک خوشگوار تجربہ ہے اور رب کریم سے دعا ہے کہ 'خوشگوار' ہی رہے۔ اٰمین

بیگم

بیگم کا کچھ تعارف کراتا چلوں۔ میری بیگم کا تعلق ہمارے گاؤں کے قریب ایک دوسرے گاؤں "گنڈیالی" سے ہے۔ تعلیم ان کی بی-اے تک ہے اور وہ اپنی گاؤں کی واحد بی-اے کرنے والی خاتون ہیں۔ عمر تقریباً میرے برابر ہی ہے، وگرنہ گاؤں میں اکثر 4 تا 5 سال کا فرق میاں بیوی کی عمر میں عام ہے۔

واپسی کے بعد

گو کام پر میری واپسی شادی کے ایک ہفتہ بعد ہی ہو گئی تھی لیکن اسکے بعد تک کے عرصے(اور شادی سے پہلے بھی) میں دفتری کاموں میں پھنسے رہنے کی بناء پر اپنے بلاگوں پر کچھ نہیں لکھ سکا۔ دفتری مصروفیات ابھی بھی وہی کی وہیں ہیں تاہم امید ہے کہ تھوڑے بہت فارغ اوقات میں اپنے بلاگوں پر کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں گا۔ ان شاء اللہ

پرانا اور نیا سال

لیجیے ایک اور نیا سال شروع ہو گیا۔ پچھلے سال تو میں نے فیض کی ایک دل جلی سے نظم شائع کر کے جان چھڑوا لی لیکن اس دفعہ کچھ لمبا لکھنے کا ارادہ ہے۔
پہلے ذکر کچھ پچھلے سال کے سود و زیاں کا۔ پچھلے سال کی سب سے بڑی کامیابی جسے میں قرار دے سکتا ہوں وہ ہے تھوڑی بہت مستقل مزاجی کا حصول۔ اس مستقل مزاجی کو بلاگنگ کے کلیے سے نا چانچیے گا کیونکہ زندگی کے کئی اور پیمانے اس کی گواہی کیلیے موجود ہیں جنکا بنظر خود مشاہدہ کرنے کیلیے آپکو جہاز کا ٹکٹ کٹا کر اسلام آباد آنا ہوگا۔ دوسری اہم کامیابی میرے لیے یہ تھی کہ اس سال میں نے رشتہ داروں سے تعلقات پیوستہ رہ شجر سے زیادہ بڑھ کر اچھے رکھے اور کچھ "متوقع" رشتہ داروں سے تعلقات کی وجہ سے میری منگنی بھی ٹوٹنے سے بچ گئی(اللہ کا شکر)۔ منگنی کے ذکر کے بعد ناکامیوں کا رونا مناسب رہیگا۔ پہلی ناکامی یہ کہ 2008ء میں میرا پکا ارادہ تھا کہ شادی کے بندھن میں بندھ جاؤں لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میری سستی اور پلاننگ سے عاری زندگی آڑے آئی اور ہم بیچلر سے بیچارے(شوہر) کی مسافت نہ طے کر سکے۔ جاري رکھيے »

عید نامہ

کہیں بس پر پڑھا تھا کہ 'یاراں نال بہاراں'۔ اس جملے کے صحیح معنی ہمیں اس عید پر معلوم ہوئے جب قریباً تین سال بعد اس عید پر سارے دوست ایک ہی وقت میں عید منانے آن ٹپکے اور صحیح معنوں میں لطف دوبالا ہوگیا۔
دوست بھلے ہی عید کی رنگینیوں کا بڑا حصہ ہوتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ خود زندہ دل ہوں اور کسی تہوار یا خوشی کو صحیح معنوں میں منانا چاہتے ہوں تو اصل مزہ اسی وقت آتا ہے۔ خود میری عید بیتی یوں ہوتی ہے کہ عید کے دن سوئے اور کہیں گئے نہیں اور عید کا مزہ نہیں آیا۔ بندہ پوچھے جب سوتے رہے اور کہیں گئے ہی نہیں تو مزہ خاک آئیگا۔ ہاں اگر کہیں جانے کی جگہ نہ ہو تو بھاڑ نامی جزیرہ بُری جگہ نہیں۔ :wink:
ہماری عید کہانی ہمیشہ اسلام آباد سے شروع ہوتی ہے، جس کی وجہ سے آغاز زرا پھیکا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے جب آپ عید پر اسلام آباد کی 80 فیصد(کچھ زیادہ تو نہیں بول گیا؟) آبادی کی چہل پہل غائب پائینگے تو پھیکا تو ہونا ہی ہے۔ سو اب کی بار بھی یہی ہوا اور اوپر سے عین آخری موقع پر ہماری ایک موبائل آپریٹر سے کنکشن ٹنل خراب ہوگئ، جس کا خمیازہ مجھے 4گھنٹے تاخیر سے روانگی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ خیر جیسے تیسے ہم مغرب کے بعد ہلکی بارش میں راولپنڈی روانہ ہوئے جہاں کوہاٹ جانے والی آخری گاڑی شاید ہمارے ساتھ ساتھ کچھ اور مسافروں کی منتظر تھی۔ یہاں ایک ٹپ نوٹ کریں کہ عید کے دنوں کے رش سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ سب سے آخری دن کے آخری اوقات میں جایا کریں، خیر ممکن ہے بڑے شہروں کیلیے یہ طریقہ کارگر نہ ہو۔ ہم جس گاڑی میں کوہاٹ روانہ ہوئے اس کی حالت قابل رحم تھی۔ رات کا وقت، بارش کے بعد دھند اور گاڑی کی لائٹوں کی روشنی بمشکل ۵ میٹر تک محدود۔ ڈھائی گھنٹے کا فاصلہ 4 گھنٹے میں طے ہوا۔
عید کی صبح، اباجی کی نصیحت نظر انداز کرتے ہوئے ہم نے ناشتہ کیا اور کپڑے بدل کے نماز پڑھنے چلے گئے۔ میرے والد عید گاہ جاتے ہیں جبکہ میں بازار میں واقع جامع مسجد، کیونکہ میرے زیادہ جاننے والے وہیں ہیں۔ عید کے بعد میری پکی عادت ہے کہ مسجد کے قریب واقع دوست کے گھر سب سے پہلے جاتا ہوں جہاں چاول یا مٹھائی میری منتظر ہوتی ہے۔ وہاں سے فارغ ہو کر میں گھر روانہ ہوا اور امی، ابو، بھائیوں، بھابھیوں وغیرہ وغیرہ سے ملنے کے بعد قربانی کی تیاریاں شروع۔ ہماری ہاں کوشش ہوتی ہے کہ قربانی ظہر کے نماز سے پہلے مکمل کر لی جائے، اسلئے نمازِ عید کے فوراً بعد قربانی کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔
پچھلے سال کی طرح اس دفعہ بھی ہماری گائے خاصی جمناسٹک کی شوقین تھی لیکن پچھلے والی سے زرا شریف۔ تاہم میں اپنے بھائی کیطرف سے دوسری قربانی میں تھا جہاں کی گائے، 'اللہ میاں کی گائے' کے مصداق تھی۔ ہم نے آرام سے رسی سے باندھا اور موصوفہ شرافت سے زمین پر آ رہی۔ ہم سے کچھ ہی فاصلے پر والد صاحب کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ قربانی کر رہے تھے۔ انکی گائے زرا مشکل سے سر بسجود ہوئی۔ زبح ہونے کے بعد میرا کام صرف ٹانگیں پکڑنا ہوتا ہے تاکہ گائے کی کھال 'اتاری' جا سکے۔
یہاں کھال کے بارے میں بتاتا چلوں کہ ہمارے یہاں کھال کے حصول کے معاملات میں صرف قصائی یا بیوپاری حضرات شامل ہوتے ہیں۔ تنظیموں وغیرہ کا ٹارگٹ شہر ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں مدرسے ہی واحد تنظیم ہوتے ہیں جو اس 'جنگ' میں ایک فریق ہوتے ہیں لیکن کبھی نہیں سنا کہ اس معاملے میں مار کٹائی کی نوبت آئی ہو۔
عموماً ہم عید کے دوسرے دن ہی رشتہ داروں کے گھر جاتے ہیں، اگر قریب ہوں تو شام میں ہو آتے ہیں۔ چونکہ میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں رشتہ داروں سے زیادہ دوست پیارے ہوتے ہیں، اسلئے میرے لیے عید کی سب سے بڑی خوشی دوستوں سے ملاقات اور گپ شپ ہوتی ہے۔ اس دفعہ تمام دوست بشمول بیرون ملک مقیم، عید کے موقع پر موجود تھے، اس لئے عید توقع سے زیادہ اچھی گزری۔
(زکام اور سر درد کیوجہ سے کچھ بے ربط سے پوسٹ ہو گئی، طبیعت سنبھلتے ہی بمعہ تصاویر اپ ڈیٹ کرتا ہوں)۔

احساسِ جرم

غلط کام کرنا کوئی بڑی بات نہیں، مشکل بعد میں ہونے والے احساسِ جرُم کو جھیلنے میں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ جیسے جیسے عمر میں بڑے ہوتے جاتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتیں آپکو زیادہ پریشان(اور خوش) کرتی ہیں۔ کم از کم میری حد تک تو یہی ہے۔
یہ ماہ و سال کا قصہ نہیں، چند دن پہلے کی بات ہے۔ میں آفس سے چھٹی کر کے سائیکل پر گھر جار رہا تھا، دفعتاً مجھے یاد آیا کہ ایک کتاب لینی ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق وہ صرف سعید بک بینک(جناح سپر) سے دستیاب ہوگی۔ میں اس وقت تک سعودی پاک ٹاور والے موڑ، جو جناح سپر کا شارٹ کٹ ہے پہنچ کا تھا۔ یہ موڑ آجکل ٹریفک کیلیے بند ہے لیکن بقول شخصے "سائیکل کے رستے کس نے روکے ہیں"۔ مجھے صرف (نام نہاد) گرین بیلٹ کے اوپر سے سائیکل گزارنی تھی اور جناح سپر کی روڈ پر موجود۔ اب میں دائیں مڑنے لگا اور پیچھے سے آتی گاڑیوں کا نظارہ کیا، سڑک تقریباً خالی تھی لیکن ایک کرولا 100(بلیو ایریا میں 70 سے اوپر کی اجازت نہیں) سے اوپر کی سپیڈ سے میری طرف آتی دکھائی دی۔ میں ابھی سڑک کراس کرتے ہوئے ہائی سپیڈ لین نہیں پہنچا تھا سو میں رُک گیا تاکہ شوماخر صاحب گزر جائیں۔ لیکن شاید میں دور سے انہیں اپنے تخیل میں انکی گاڑی سے ٹکراتا ہوا نظر آیا کہ انہوں نے میرے قریب آکر بریکوں کو تکلیف دی اور بجائے میرے سامنے فاسٹ لین میں گزرنے کے پیچھے سے آئے اور ہاتھوں سے پھٹکار کا اشارہ (ویسے مجھے اسوقت یہ اشارہ کچھ اور معلوم ہوا تھا) کر کے چلتے بنے۔ جبتک وہ سپیڈ پکڑتے انکی شامت کہ پہلی دفعہ مجھے "پبلک" غصہ آگیا اور پیچھے سے "انگل" کا اشارہ کر دیا۔ پچھلے سیٹ پر بندہ جو میری طرف دیکھ رہا تھا اور ڈرائیور جو غالباً بیک مرر دیکھ رہا تھا، نے دیکھ کر گاڑی روک لی۔ میں نے گرین بیلٹ پر سے انہیں رُکتے دیکھا تو ایک لمحے کو سوچا کہ چل بچے بھاگ اب تیری خیر نہیں لیکن پھر دل کو تسلی دی اور رُک گیا۔ شوماخر صاحب نے ریورس کر کے گاڑی میری برابر کھڑی کی اور فرمایا کہ،
" آپ کو شرم نہیں آتی ایسے چہرے (اتفاق سے ہم "داڑھی شدہ" ہیں) کے ساتھ ایسی حرکت کرتے ہوئے۔"
"آپ کو شرم نہیں آتی کہ میں رُک بھی گیا اور آپ نے پھر بھی میرے پیچھے سے آکر گاڑی گھما کر efficiency دکھانی ضروری سمجھی۔" میں نے جواب دیا۔
"آپکو شرم آنی چاہیئے اس حلیے کے ساتھ ایسی حرکت کرتے ہوئے-" شوماخر صاحب پھر گویا ہوئے۔
"آپکو بھی آنی چاہیے"۔ ہم بضد تھے۔
شوماخر صاحب مکالمہ یہاں ختم کرکے(اللہ ان کا بھلا کرے) سوئے منزل روانہ ہوئے اور ہم بھی جناح سپر کی طرف۔
کتاب خرید کر میں ایف-8 دوست کیطرف گیا اور اسے مرچ مصالحہ لگا کر مذکورہ واقعہ سنایا۔
ایف-8 سے روانہ ہوا تو اس واقعے کے بارے میں سوچ رہا تھا، عجیب سے احساسِ جرم نے آ گھیرا۔ وہ دن، آجکا دن میرا دل کر رہا ہے کہ محترم شوماخر صاحب سے ملوں اور ان سے اپنے حرکت کی معافی مانگوں۔
"شوماخر صاحب! میں شرمندہ ہوں۔"

کچھ اچھا ضرور ہے

بجائے ایک لمبی تمہید کے جسمیں بحیثیتِ قوم ہماری بے حسی، نکماپن، کام چوری اور جانے کیا کیا کمزوریاں بیان کی گئی ہوں اور ساتھ میں یہ شکوہ بھی کہ اسی سیلاب رواں میں ہم کچھ اچھے لوگوں اور واقعات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، میں سیدھی طرح بات شروع کرتا ہوں(پھر بھی لمبی تو ہو ہی گئی تمہید)۔
ہوا کچھ یوں کہ کل رات ہماری بجلی کی وہ سروس لائن (جو میٹر میں آکر لگتی ہے) اُڑ گئی۔ رات کے ایک بجے یہ ڈرامہ ہو اور اوپر سے آپ گاؤں سے 150 کلومیٹر کا فاصلے طے کر کے آرہے ہوں تو جناب اللہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے۔ پہلے تو روم میٹ سمیت جان ہتھیلی پر رکھ کر خود کچھ ٹرائی ماری لیکن ندارد۔ ویسے آپس کی بات ہے سروس لائن اور میٹر کے مسئلے عام صارف کیا کسی عام الیکٹریشن کو کرنے کی اجازت نہیں ہوتی کہ ایسی لائنوں کی طاقتور بجلی پل بھر میں آپکا بہاری کباب بنا سکتی ہے۔ خیر، جب کچھ نہ بن پڑا تو ہم نے سوچا آئیسکو والوں کو شکایت کرتے ہیں، شاید کچھ افاقہ ہو۔ آپریٹر نے بات تو اچھی کی لیکن ہمیں اس کی یہ بات کہ "الیکٹریشن اسوقت کسی اور کے مسئلے سے نبٹنے کیلیے سائٹ پر ہیں، وہ کرکے آپکی (بجلی کی)خبر لیتے ہیں"، ہمیں کام چوری کا معیار سرکاری جھوٹ معلوم ہوا۔ سو، موسم اچھا ہونے کی تسلی کرکے ہم لیٹنے کا ارادہ کرنے لگے۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔صرف پانچ منٹ بعد نیچے سے کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگیں۔ نیچے دیکھا تو یقین نہیں آیا کہ آئسکو کے لائن مین ہمارے میٹر اور سروس لائن کو لائن پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے دل سے آئسکو کیلیے دعائیں نکلی(جی ایسا ہی ہوا)۔ انہوں نے تار وغیرہ جوڑے، لیکن ہماری سروس لائن بالکل جل چکی تھی۔ اسوقت تار تو ملنی نہیں تھی سو صبح پر چھوڑ دی۔ تاہم ان میں سے ایک نے ڈنڈی ضرور ماری کہ تار خود لینی ہوگی۔ صبح میں نے ہمسایوں سے کنفرم کیا کہ تار ہم نے نہیں بلکہ انہوں نے ہی مہیا کرنی تھی۔
بہرحال قصہ مختصر صبح میں نے دوبارہ فون کیا تو آپریٹر نے فوراً صارف پہچان کر ہمیں تسلی دلائی کہ بس آپکا کام آج ہوا ہی چاہتا ہے اور دو گھنٹے بعد جب ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں، میں نے گھر فون کیا۔۔۔۔۔اور واقعی کام ہو چکا۔
اسلئے ہم کہتے ہیں اگر سب اچھانہیں تو ، "کچھ" اچھا ضرور ہے۔
شکریہ آئیسکو