غلط کام کرنا کوئی بڑی بات نہیں، مشکل بعد میں ہونے والے احساسِ جرُم کو جھیلنے میں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ جیسے جیسے عمر میں بڑے ہوتے جاتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتیں آپکو زیادہ پریشان(اور خوش) کرتی ہیں۔ کم از کم میری حد تک تو یہی ہے۔
یہ ماہ و سال کا قصہ نہیں، چند دن پہلے کی بات ہے۔ میں آفس سے چھٹی کر کے سائیکل پر گھر جار رہا تھا، دفعتاً مجھے یاد آیا کہ ایک کتاب لینی ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق وہ صرف سعید بک بینک(جناح سپر) سے دستیاب ہوگی۔ میں اس وقت تک سعودی پاک ٹاور والے موڑ، جو جناح سپر کا شارٹ کٹ ہے پہنچ کا تھا۔ یہ موڑ آجکل ٹریفک کیلیے بند ہے لیکن بقول شخصے "سائیکل کے رستے کس نے روکے ہیں"۔ مجھے صرف (نام نہاد) گرین بیلٹ کے اوپر سے سائیکل گزارنی تھی اور جناح سپر کی روڈ پر موجود۔ اب میں دائیں مڑنے لگا اور پیچھے سے آتی گاڑیوں کا نظارہ کیا، سڑک تقریباً خالی تھی لیکن ایک کرولا 100(بلیو ایریا میں 70 سے اوپر کی اجازت نہیں) سے اوپر کی سپیڈ سے میری طرف آتی دکھائی دی۔ میں ابھی سڑک کراس کرتے ہوئے ہائی سپیڈ لین نہیں پہنچا تھا سو میں رُک گیا تاکہ شوماخر صاحب گزر جائیں۔ لیکن شاید میں دور سے انہیں اپنے تخیل میں انکی گاڑی سے ٹکراتا ہوا نظر آیا کہ انہوں نے میرے قریب آکر بریکوں کو تکلیف دی اور بجائے میرے سامنے فاسٹ لین میں گزرنے کے پیچھے سے آئے اور ہاتھوں سے پھٹکار کا اشارہ (ویسے مجھے اسوقت یہ اشارہ کچھ اور معلوم ہوا تھا) کر کے چلتے بنے۔ جبتک وہ سپیڈ پکڑتے انکی شامت کہ پہلی دفعہ مجھے "پبلک" غصہ آگیا اور پیچھے سے "انگل" کا اشارہ کر دیا۔ پچھلے سیٹ پر بندہ جو میری طرف دیکھ رہا تھا اور ڈرائیور جو غالباً بیک مرر دیکھ رہا تھا، نے دیکھ کر گاڑی روک لی۔ میں نے گرین بیلٹ پر سے انہیں رُکتے دیکھا تو ایک لمحے کو سوچا کہ چل بچے بھاگ اب تیری خیر نہیں لیکن پھر دل کو تسلی دی اور رُک گیا۔ شوماخر صاحب نے ریورس کر کے گاڑی میری برابر کھڑی کی اور فرمایا کہ،
" آپ کو شرم نہیں آتی ایسے چہرے (اتفاق سے ہم "داڑھی شدہ" ہیں) کے ساتھ ایسی حرکت کرتے ہوئے۔"
"آپ کو شرم نہیں آتی کہ میں رُک بھی گیا اور آپ نے پھر بھی میرے پیچھے سے آکر گاڑی گھما کر efficiency دکھانی ضروری سمجھی۔" میں نے جواب دیا۔
"آپکو شرم آنی چاہیئے اس حلیے کے ساتھ ایسی حرکت کرتے ہوئے-" شوماخر صاحب پھر گویا ہوئے۔
"آپکو بھی آنی چاہیے"۔ ہم بضد تھے۔
شوماخر صاحب مکالمہ یہاں ختم کرکے(اللہ ان کا بھلا کرے) سوئے منزل روانہ ہوئے اور ہم بھی جناح سپر کی طرف۔
کتاب خرید کر میں ایف-8 دوست کیطرف گیا اور اسے مرچ مصالحہ لگا کر مذکورہ واقعہ سنایا۔
ایف-8 سے روانہ ہوا تو اس واقعے کے بارے میں سوچ رہا تھا، عجیب سے احساسِ جرم نے آ گھیرا۔ وہ دن، آجکا دن میرا دل کر رہا ہے کہ محترم شوماخر صاحب سے ملوں اور ان سے اپنے حرکت کی معافی مانگوں۔
"شوماخر صاحب! میں شرمندہ ہوں۔"
تحارير برائے زمرہ: 'حوادث' ...
احساسِ جرم
اتوار، 9 نومبر 2008 — احوال ، حوادث





