تحارير برائے زمرہ: 'اپنا دکھڑا' ...

واپسی

ایک دفعہ پھر سے میرے بلاگ پر خوش آمدید!
بلاگنگ میں چلنا، رکنا (start, pause) تو لگا ہی رہتا ہے، لیکن جس تواتر سے اس عادتِ بد پر میں کاربند ہوں شاید ہی کوئی اور ہو۔ لیکن اس دفعہ "ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا" کے مصداق ہمارے پاس بھی 'ودھیا' بہانہ ہے۔ جی ہاں آپ میں سے کئی احباب جانتے ہی ہونگے کہ پچھلے ماہ ہماری زندگی میں شادی نامی خوشگوار واقعہ(یا حادثہ) رونما ہوا۔ جاننے والوں، دوستوں اور دوسرے احباب کے ڈراوے "کچھ نہ دوا نے کام کیا" ہو گئے اور ہم مورخہ 12 اپریل 2009ء کو اس دریا میں کود ہی گئے۔ تادمِ تحریر شادی ایک خوشگوار تجربہ ہے اور رب کریم سے دعا ہے کہ 'خوشگوار' ہی رہے۔ اٰمین

بیگم

بیگم کا کچھ تعارف کراتا چلوں۔ میری بیگم کا تعلق ہمارے گاؤں کے قریب ایک دوسرے گاؤں "گنڈیالی" سے ہے۔ تعلیم ان کی بی-اے تک ہے اور وہ اپنی گاؤں کی واحد بی-اے کرنے والی خاتون ہیں۔ عمر تقریباً میرے برابر ہی ہے، وگرنہ گاؤں میں اکثر 4 تا 5 سال کا فرق میاں بیوی کی عمر میں عام ہے۔

واپسی کے بعد

گو کام پر میری واپسی شادی کے ایک ہفتہ بعد ہی ہو گئی تھی لیکن اسکے بعد تک کے عرصے(اور شادی سے پہلے بھی) میں دفتری کاموں میں پھنسے رہنے کی بناء پر اپنے بلاگوں پر کچھ نہیں لکھ سکا۔ دفتری مصروفیات ابھی بھی وہی کی وہیں ہیں تاہم امید ہے کہ تھوڑے بہت فارغ اوقات میں اپنے بلاگوں پر کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں گا۔ ان شاء اللہ

پرانا اور نیا سال

لیجیے ایک اور نیا سال شروع ہو گیا۔ پچھلے سال تو میں نے فیض کی ایک دل جلی سے نظم شائع کر کے جان چھڑوا لی لیکن اس دفعہ کچھ لمبا لکھنے کا ارادہ ہے۔
پہلے ذکر کچھ پچھلے سال کے سود و زیاں کا۔ پچھلے سال کی سب سے بڑی کامیابی جسے میں قرار دے سکتا ہوں وہ ہے تھوڑی بہت مستقل مزاجی کا حصول۔ اس مستقل مزاجی کو بلاگنگ کے کلیے سے نا چانچیے گا کیونکہ زندگی کے کئی اور پیمانے اس کی گواہی کیلیے موجود ہیں جنکا بنظر خود مشاہدہ کرنے کیلیے آپکو جہاز کا ٹکٹ کٹا کر اسلام آباد آنا ہوگا۔ دوسری اہم کامیابی میرے لیے یہ تھی کہ اس سال میں نے رشتہ داروں سے تعلقات پیوستہ رہ شجر سے زیادہ بڑھ کر اچھے رکھے اور کچھ "متوقع" رشتہ داروں سے تعلقات کی وجہ سے میری منگنی بھی ٹوٹنے سے بچ گئی(اللہ کا شکر)۔ منگنی کے ذکر کے بعد ناکامیوں کا رونا مناسب رہیگا۔ پہلی ناکامی یہ کہ 2008ء میں میرا پکا ارادہ تھا کہ شادی کے بندھن میں بندھ جاؤں لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میری سستی اور پلاننگ سے عاری زندگی آڑے آئی اور ہم بیچلر سے بیچارے(شوہر) کی مسافت نہ طے کر سکے۔ جاري رکھيے »