تحارير برائے زمرہ: 'شاعر اور شاعری' ...

اب کے ہم بچھڑے تو شاید

کہتے ہیں جب کسی بستی پر عذاب آتا ہے تو نیک لوگ پہلے اٹھا لیے جاتے ہیں۔ اب جبکہ فراز کی نگری ہنگو شورش کا شکار ہے، فراز نہیں رہے۔

عصرِ حاضر کے ممتاز شاعر احمد فراز طویل علالت کے بعد پیر کی رات اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر چھہتر برس تھی۔ مکمل خبر

اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔  اٰمین

اب نہ وہ ميں ہوں نہ تو ہے نہ وہ ماضي ہے فراز
جيسے دو سائے تمنا کے سرابوں ميں ملیں

نیا سال

سنتے ہیں کل سے نیا سال شروع ہونے والا ہے۔۔۔

لیکن کیا ہمارے روز و شب بدل جائینگے؟ یا ہم انہی دائروں میں گھومتے رہینگے؟ پچھلا سال اس دیس کے باسیوں کا سب سے برا سال تھا، دعا ہے اگلا سال زیادہ نہ سہی تھوڑی خوشیاں لیکر آئے۔ اٰمین

 

فیض کے الفاظ میں نیا سال:

اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟
ہر طرف خَلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے

روشنی دن کی وہي تاروں بھري رات وہی
آج ہم کو نظر آتي ہے ہر ايک بات وہی

آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں
ايک ہندسے کا بدلنا کوئي جدت تو نہيں

اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرينے تيرے
کسے معلوم نہيں بارہ مہينے تيرے

جنوري، فروري اور مارچ ميں پڑے گي سردي
اور اپريل، مئي اور جون ميں ہو گي گرمي

تيرا مَن دہر ميں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا
اپنی ميعاد بَسر کر کے چلا جائے گا

تو نيا ہے تو دکھا صبح نئي، شام نئی
ورنہ اِن آنکھوں نے ديکھے ہيں نئے سال کئی

بے سبب لوگ ديتے ہيں کيوں مبارک باديں
غالبا بھول گئے وقت کی کڑوي ياديں

تيری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی
فيض نے لکھی ہے يہ نظم نرالے ڈھب کی

بشکریہ