عرصہ ہوا پاکستان کے پشتو گلوکار تخلیقی جمود کا شکار ہیں۔ اکثر گلوکار ایک ہی طرز کے اور دوسروں کی موسیقی چھاپہ مار کے گاتے ہیں۔ افغان ہمیشہ سے اس معاملے میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ایک خوبصورت افغانی لوک گیت پیش خدمت ہے:
تحارير برائے زمرہ: 'جہانِفن' ...
او عذرا جاناں: ایک خوبصورت افغان لوک گیت
بدھ، 10 جون 2009 — جہانِفن
لیٹ جشن آزادی۔ ہم بولیں محبت کی زباں
اتوار، 17 اگست 2008 — تہنیتی ، جہانِفن ، میرے لوگ
موبی لنک جشن آزادی پر کسی لیجنڈری سنگر کو لیکرملی نغمہ پیش کرتا ہے۔ اس دفعہ امانت علی خان کی "اے وطن پیارے وطن" کی باری تھی۔ تاہم مجھے پچھلے سال فریدہ خانم کا "ہم بولیں محبت کی زباں" بہت پسند آیا۔
13، 14 اور 15 اگست کو ہماری چھٹی تھی، سو تفصیلی تحریر بھی نہ لکھ پایا۔ اب اسی پر اکتفا کرنے پڑے گا۔
Son of a lion
پیر، 21 جولائی 2008 — جہانِفن
ایک طرف امریکہ اور نیٹو پشتون اکثریت پر مشتمل طالبان سے نالاں ہیں تو دوسری طرف پشتون کلچر سے متاثر آسٹریلین ہدایتکار بنجامن گلمور نے درہ آدم خیل کے جنگ سے متاثرہ علاقہ میں بقدم خود جا کر ایک فلم بنائی ہے۔ فلم کا نام ”بچې شير“ یعنی Son of a lion ہے۔ یہ فلم ایک ایسے بچے کی کہانی ہے جو اپنے باپ کی اسلحہ فیکٹری میں کام کرنے کی بجائے سکول جانا چاہتا ہے۔ جرمن میگزین ”سپیگل آنلائن“ نے بنجامن گلمور سے اسی فلم کی بابت گفتگو جو کافی دلچسپی کا سامان لئے ہوئے ہے، یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
اور یہ رہا ٹریلر:






