خوف

گاؤں میں میرے گھر کے آگے اور پیچھے دونوں طرف قبرستان ہیں۔ بچپن میں، جب کبھی میں دیر سے گھر آتا تو قبرستان کی جانب نہیں دیکھتا تھا۔عجیب سا خوف آتا تھا، جب قبرستان کا آخری سرا آتا تو میں بھاگنے کے انداز میں گھر کیطرف لپکتا۔

کل مجھے ایف ٹین تھری کے ایک قدرے ویرانے میں واقع ایک پُل پر سے گزرتے ہوئے احساس ہوا کہ اب مجھے خوف محسوس نہیں ہوتا۔ اب میں بڑا ہو گیا ہوں۔۔۔کیا خوف بھی بچپن کی ایک نعمت ہے؟

3 آراء دی گئیں »

جانان گل بتاریخ: ہفتہ، 19 جنوری 2008 بوقت: 1:24 pm

خوف بھی نعمت ہوتا ہے ساجد بھائی؟ میرے گھر کے پاس کوئی قبرستان تو نہین تھا البتہ ایک ویران سی مسجد تھی اور رات کو اندھیرے میں مجھے مسجد کے پاس سے بہت زیادہ خوف محسوس ہوتا تھا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ مسجد میں رات کو جن پریت عبادت کرتے ہیں۔

ماوراء بتاریخ: ہفتہ، 2 فروری 2008 بوقت: 10:04 pm

خوف اور نعمت؟؟ :oops:

نہیں، خوف صرف بچپن کی نعمت نہیں ہے۔ میرا خیال ہے میں بڑی ہو گئی ہوں اور ابھی تک مجھے بہت سی چیزوں سے ڈر لگتا ہے۔ :sad:

قبرستان میں تو رات کو جائیں تو شاید ڈر لگے لیکن دن کو نہیں لگتا۔ ہمارے گھر کے پاس قبرستان ہے۔ میرے ابو وہاں اکثر سیر کرنے جاتے ہیں۔ :grin:

راہبر بتاریخ: جمعہ، 4 جولائی 2008 بوقت: 9:10 am

اب ڈر نہ لگے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ رات کو قبرستان کی سیر کرنے نکل جایا کریں۔ :razz:

اپنی رائے دیں

Englishاردو

Englishاردو